اردو زبان کا آغاز اور ارتقاء

زبان اظہارِ خیال کا بہترین وسیلہ ہوتی ہے۔ساتھ ہی یہ ایک سماجی اور تہذیبی مظہر بھی ہوتی ہے۔زبان سماج میں پھیلتی پھولتی اور پروان چڑھتی ہے اور تہذیب سے اس کا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔اردو کی خواہ لسانی تاریخ ہو یا اس کا ادبی پیکر،اس زبان کے مرحلے میں ہمیں ہندوستانی تہذیب کے خد و خال نظر آتے ہیں۔زبان کی پیدائش انسانی یا سماجی ضرورت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

تاریخی اور تہذیبی اعتبار سے اردو سر زمین ہند کی اس قدیم زبان کا تسلسل ہے جس سے آریاؤں کی ابتدائی تہذیب نے جنم لیا اور جسے سنسکرت کہتے ہیں۔سنسکرت ایک قدیم ہندوستانی زبان تھی اور اردو ایک جدید ہندوستانی زبان ہے۔دونوں کا تعلق ہند آریائی نسل سے ہے۔ دونوں کا تاریخی اررتقاء شمالی ہندوستان کے سماجی اور تہذیبی تناظر میں ہوا۔

1500 ق م میں جب آریائی نسل کے لوگ ہندوستان کے شمال مغربی خطے میں وارد ہوئے تو یہاں ایک نئی تہذیب پروان چڑھی جس نے جلد ہی سنسکرت جیسی صاف ستھری زبان کو جنم دیا۔پھر ڈھائی ہزار سال کی تہذیبی کروٹوں اور لسانی تبدیلیوں کے بعد اس خطہ ارض میں اردو ا پیدا ہوئی۔

سنسکرت کےبعد پراکرتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔یہ ہندآریائ کا وسطی عہد ہے جو ڈیڑھ ہزار سال (500 ق م تا 1000ق م )کے عرصے پر محیط ہے۔اس کے بعد سنسکرت متروک قرار دی جاتی ہے اور اس کی جگہ پراکرتوں نے لے لی۔پراکرت ایک سادہ، آسان اور فطری زبان تھی جسے بہت مقبولیت حاصل تھی اور اس کے بعد آپ بھرنش عوام کی زبان بن گئی۔

ہند آریائی کا عہد جدید 1000ء سے شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب آپ بھرنشوں کا وجود ختم ہونے لگتا ہے اور ان کی جگہ شمالی ہندوستان میں کئی بولیاں سر اٹھانے لگتی ہیں اورنت نئی زبانیں وجود میں آتی ہیں۔تاریخ کے اس موڑ پر شمالی ہندوستان میں مسلمان وارد ہوتے ہیں جو یہاں کی بولیوں کو ‘ہندی’ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔جو بعد میں مغربی ہندی کہلاتی ہے۔مغربی ہندی کوئی مخصوص زبان کا نام نہیں بلکہ ان پانچ بولیوں کے مجموعے کا نام ہے جو براہ راست شورسینی اپ بھرنش سے پیدا ہوتی ہیں۔ان کے نام کھڑی بولی، ہریانوی، برج بھاشاہ، بندیلی اور قنوجی ہیں۔

اردو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے جو براہ راست کھڑی بولی سے تعلق رکھتی ہے۔کیونکہ یہ کھڑی بولی کا ہی نکھرا ہوا روپ ہے اور اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔پروفیسر گیان چند جین کہتے ہیں” اردو کی اصل کھڑی بولی اور صرف کھڑی بولی ہے۔کھڑی بولی دہلی اور مغربی یوپی کی بولی ہے”

1001ء میں محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملہ کیا اور سندھ کو اپنا پایا تحت بنایا۔ پھر 1193ھ میں محمود غزنوی نے قطب الدین کی مدد سے دہلی کو فتح کیا۔ 1525ء میں بابر اپنے پانچویں حملے کے بعد سندھ کے راستے ہندوستان میں داخل ہوا۔1526ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں بابر نے سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر آگرہ کے شاہی محل پر قبضہ کر لیا۔اس طرح مغلیہ دور کا آغاز ہوتا ہے اور یہ سلسلہ بہادر شاہ ظفر تک چلتا رہتا ہے۔

کہا جاتا ہے لفظ "اردو”سب سے پہلے تزک بابری میں ملتا ہے۔البتہ اکبر کے دور میں یہ لفظ یہاں عام ہوگیا اور یہاں لوگ "اردوۓ معلی” اور "اردوۓ لشکر” کہنے لگے۔لیکن ہندوستان کی عام بول چال کو جہانگیر کے دور میں بھی ہندی ہی سے موسوم تھا البتہ شاہجہان نے سب سے پہلے اس زبان کا نام اردو معلی رکھا۔دراصل اردو شاہجہان کے لشکر کی عام بول چال تھی۔ اس لشکر میں قسم قسم کے ادمی طرح طرح کی زبان بولنے والے تھے جن کے میل جول سے ایک ملی جلی زبان سامنے آنے لگی جس کو وہ لوگ اردو کہنے لگے۔

1206ء خلجی دکن کی طرف روانہ ہوئے جس سے اردو یا ہندوستانی زبان شمال سے جنوب پہنچتی ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے محمد بن تغلق 1327ء میں دولت آباد کو اپنا پایہ تخت بتاتے ہیں۔ اس وقت دہلی اجڑی ہوئی تھی وہاں کے تمام لوگ بھی دکن چلے گئے۔ ظاہر ہے ان کے ساتھ اردو زبان بھی دکن پہنچ جاتی ہے۔

دکن میں 1347ء میں بہمنی سلطنت کی بنیاد ڈالی گئی اس طرح وہاں پانچ سلطنتیں قائم ہوئیں جن میں برید شاہی، عماد شاہی، نظام شاہی، عادل شاہی اور قطب شاہی اہم ہیں۔بکن کی ان سلطنتوں میں اردو کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔عادل شاہی دور میں نصرتی کی مثنوی "گلشن عشق” اور "علی نامہ” وغیرہ ملتی ہیں۔اسی طرح قطب شاہی دور میں اردو کا ارتقاء سب سے زیادہ ہوتا ہے۔دراصل قطب شاہ خود بھی ایک شاعر تھا اسے اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر بھی کہا جاتا ہے۔اس عہد میں ملا وجہی نے مثنوی "قطب مشتری”(١٦٠٩) اور "سب رس”(١٦٣٥) جیسی اہم تصانیف تخلیق کیں۔’سب رس’ اردو کی پہلی نثری کتاب ہے۔قطب شاہی عہد میں زیادہ تر بادشاہ شاعر و ادیب تھے یہی وجہ ہے کہ زبان و ادب میں بھی لوگوں کی دلچسپی قائم ہوتی گئی اور زبان بتدریج ارتقاء کے منازل طے کرتی گئی۔

دکن میں اردو زبان کے پھیلنے کے کئی اسباب تھے۔پہلی وجہ یہ تھی کہ دکن کی سلطنتوں کے بادشاہ زیادہ تر شعراء تھے۔دوسری وجہ یہ تھی کہ وہاں رابطے کی زبان ہندوستانی تھی۔تیسری وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ شمال سے جو لوگ دکن آئے ان کی زبان بھی اردو تھی۔چوتھی وجہ یہ تھی کہ شمال کی سیاسی زبان فارسی تھی اس لئے ردعمل کے طور پر بھی انھوں نے ابتدائی اردو کو ہی اپنایا۔مثلا انہوں نے شمال کی سیاسی زبان فارسی کو اپنایا۔دکن میں کئی علاقائی زبانیں تھیں۔اور پھر اردو نے وہاں رابطے کا کام انجام دیا۔شمال کے لوگ وہیں رہتے تھے جن کی مادری زبان اردو تھی اور یہ تبلیغی زبان تھی۔

سترہویں صدی (١٦٨٧ء)میں اورنگزیب دکن پر حملہ کرتا ہے اور فاتح ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود دکن میں ادبی محفلیں منعقد کی جاتی رہیں اور زبان و ادب کا کام جاری رہا۔اسی عہد میں ولی، سراج،وجدی، ذوقی، بحری، فراقی اور عاجز وغیرہ جیسے باکمال شعراء پیدا ہوئے۔1700ء میں ولی پہلی بار اپنا کلام لے کر دہلی آئے اور یہاں کی پوری ادبی فضا کو بدل دیتے ہیں۔ولی کا کلام ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔اس کی شہرت چار طرف ہو جاتی ہے۔اور ان کو اردو شاعری کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔

ولی کی آمد کے بعد ایہام گوئی کا دور شروع ہوتا ہے۔ایہام گوئی نے اردو کے فروغ میں اہم رول ادا کیا کیونکہ الفاظ کے انتخاب میں شعراء خاص خیال رکھتے تھے۔اس لیے نئے نئے الفاظ اس زبان میں شامل ہوتے گئے۔اس کے بعد اردو باضابطہ ایک زبان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اس کے اندر اتنی وسعت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کر سکے۔

1757ء میں انگریزوں کی ہندوستان آمد کے بعد ایک نئی فضا قائم ہوتی ہے۔انگریزوں نے اپنی ضرورتوں کے تحت 1800ء میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا۔1825ء میں دہلی کالج کا قیام عمل میں آیا۔اس کے علاوہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں دبستانوں کا بھی اہم رول رہا ہے۔جن میں دبستان دہلی، دبستان لکھنؤ، انجمن پنجاب لاہور وغیرہ اہم ہیں۔تحریکوں اور رحجانوں میں رومانوی تحریک، حلقہ ارباب ذوق، علیگڑھ تحریک، ترقی پسند،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی تحریکیں بہت اہم ہیں ان تحریکوں نے اردو زبان کی ترقی و ترویج میں اہم رول ادا کیا۔

اردو کی ترقی و ترویج میں مختلف مذہبی، سیاسی، سماجی و ادبی تحریکوں کا بھی اہم رول رہا ہے۔اس کے علاوہ جب ہم یورپ کے اثر میں آگئے تو چند چیزوں کو ہم نے فیشن کے طور پر اپنایا۔اس طرح مختلف یورپی ادبی رحجانات سے بھی ہم متاثر ہوئے۔گ
دلی کے اجڑنے سے شعراء لکھنو چلے گئے وہاں ان لوگوں نے اپنا الگ دبستان قائم کیا۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اردو آج بھی پھل پھول رہی ہے اور اپنے الگ الگ دبستان قائم کر رہی ہے۔۔۔

Close