اردو تنقید کا ارتقا

کسی بھی ادب میں تنقید کی ارتقاء کا مطالعہ اس لئے مشکل ہو جاتا ہے کہ تخلیق اور تنقید کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تنقید کی ایک شکل تخلیق کے اندر بھی چھپی ہوتی ہے۔اور ہر ادب کی ابتدا میں اس کے نقوش مل جاتے ہیں۔اسی لیے تنقید کے متعلق یہ رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کا پہلا بانی کون تھا۔تنقید کو تذکرہ نگاری میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کیونکہ تذکرے میں شاعری کی تاریخ پیش کی گئی ہے اور جہاں تک اصول تنقید کے ارتقا کا سوال ہے ان تذکروں سے مدد ملتی ہے۔اردو شعراء سے متعلق پہلا تذکرہ میر کا ‘نکات الشعراء‘ ہے۔یہ تذکرہ ١٧٥٢ء میں مرتب ہوا۔اس کے بعد بھی بہت سے تذکرے لکھے گئے تذکرے میں کسی مخصوص تنقیدی نقطہ نظر کو رہنما نہیں بنایا جاتا ہے،اسی لیے ان تذکروں میں کسی تنقیدی اصول کو تلاش نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ان تذکروں کی مدد سے اردو شاعری کے ارتقاء کو سمجھا جاسکتا ہے۔ان میں جن شعرا کا تذکرہ ہے ان کی شاعری کی خوبیوں اور خامیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بنیادی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تنقید کی ابتدا تذکرے سے ہوئی۔ان تذکروں سے نہ صرف شعراء کے حالات زندگی کا پتہ چلتا ہے بلکہ انکے کلام کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔یعنی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تذکرے میں شاعری کے ظاہری فنی مسائل سے بحث کی جاتی ہے۔تذکرہ نگاری کے اپنے حدود ہیں ان میں جو تنقیدی جھلک ملتی ہے وہ اس وقت کے اہم ادبی شعور کا عکس ہیں۔

اردو تنقید کا منظرنامہ ١٨٥٧ء سے تبدیل ہوتا ہے جس طرح دوسرے اصناف میں تبدیلی ہوئی اسی طرح تنقید میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔حالی اور آزاد جو کہ جدید نظم کے بانی بھی ہیں انہوں نے نئے خیالات سے اردو شاعری کو آشنا کیا۔آزاد نے‘آب حیات‘ لکھ کر اردو تنقید کی ابتدا کی۔لیکن اردو تنقید کی با ضابطہ ابتدا حالی کی ‘مقدمہ شعروشاعری’ سے ہوتی ہے۔آزاد نے ‘آب حیات’ میں اردو شعراء اور ان کی شاعری کا عہد بہ عہد تذکرہ کیا ہے لیکن ان کے پیش نظر ان کا اپنا پسند اور ناپسند بھی تھا۔جن شعراء کو وہ پسند کرتے تھے ان کی بے جا تعریف کی ہے اور جو انہیں ناپسند تھے ان کی خامیوں کو نمایاں کیا ہے۔اور یہ تنقیدی اصول کے خلاف ہے۔لیکن اب حیات کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ آزاد نے پہلی بار زبان کا ایک نیا نظریہ بھی پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ "اردو برج بھاشا سے نکلی ہے” بعد کے نقادوں نے ‘آب حیات‘ سے بہت استفادہ کیا ہے اور جیسے جیسے تنقیدی شعور پختہ ہو رہے تھے اس کی نشاندہی بھی کرنے لگے۔

آزاد اور حالی دونوں ادب میں تبدیلی لانا چاہتے تھے حالی خاص طور سے شاعری کے اصلاحی اور افادی پہلو پر زور دیتے ہیں اس لحاظ سے حالی کا نقطہ نظر مختلف ہو جاتا ہے اور وہ شاعری میں سماجی شعور کی نشاندہی کرتے ہیں۔”مقدمہ شعروشاعری”نہ صرف حالی کی بلکہ اردو کی مکمل تنقیدی کتاب ہے۔اس میں حالی نے شعر کہنے کے اصول وضوابط طے کیے اور یہ کہا کہ شعر کے لیے سادگی، اصلیت اور جوش ضروری ہیں۔اسی طرح شعراء کے لیے بھی انہوں نے تین چیزوں کو ضروری قرار دیا۔وہ یہ ہیں تخیل،مطالعہ کائنات،اور تفحص الفاظ۔

محمد حسین آزاد حالی اور شبلی نعمانی، یہ تینوں نقاد عملی تنقید کی طرف متوجہ ہوئے۔انہوں نے مختلف شعراء کے کلام کا تجزیہ کیا۔عملی تنقید کے ذریعے کئی اصناف کے حدود اور امکانات کی چھان بین بھی ان نقادوں نے بڑی خوبی سے کی ہے۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو تنقید کی ابتدا انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں ہوئی۔یہی زمانہ ہندوستان کی دوسری زبانوں میں بھی تنقید کی ابتدا کا ہے حالی نے جس طرح سے تنقیدی شعور کا ثبوت پیش کیا ہے وہ انہیں اپنے عہد کے دوسرے نقادوں سے الگ کر دیتا ہے۔اور یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حالی نے تنقید کی نئی راہ نکالی۔سماجی نقطہ نظر سے بھی حالی نے اظہار خیال کیا ہے۔جمالیاتی پہلوؤں کو شبلی کے یہاں تلاش کر سکتے ہیں یہی وہ دور ہے جب شعروادب کے سماجی پہلوؤں اور جمالیاتی پہلوؤں پر توجہ دی گئی۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نقاد بعد میں نظر آتے ہیں جن میں امداد امام اثر،سلیم پانی پتی،مہدی افادی،سلمان انصاری،رشید احمد صدیقی،عبدالحق،عظمت اللہ خان اور دوسرے نقادوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔تاریخی رحجان کی جھلک عبدالحق، سلمان ندوی اور عبدالسلام ندوی کے یہاں ملتی ہے۔جمالیاتی اور تاثراتی انداز مہدی افادی، عبدالرحمن بجنوری،اور سجاد انصاری کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔نفسیاتی پہلو عبدالماجد دریابادی،عظمۃ اللہ اور ڈاکٹر زور کی بعض تنقید و میں نظر آتے ہیں۔

١٩٣٦ء کے بعد جب ترقی پسند تحریک زوروں پر تھی مارکسی تنقید نے اپنا قدم جمایا جسے ترقی پسند تنقید بھی کہا جاتا ہے اس عہد میں اردو تنقید نے ایک نئی راہ تلاش کی اور مارکسی نظریے کو پیش کرنے کی کوشش کی۔اس سلسلے کا پہلا مضمون اختر حسین رائے پوری کا ‘ادب اورزندگی‘ تھا۔جو ١٩٣٥ء میں لکھا گیا۔اس سے ادب اور زندگی کے سماجی اور فکری رشتے کا پتہ چلتا ہے۔مارکسی تنقید کی طرف یہ پہلا شعوری قدم تھا۔اس کے بعد سجاد ظہیر، احمد علی، ڈاکٹر عبد العلیم،احتشام حسین وغیرہ نے مارکسی تنقید کو آگے بڑھایا اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ تنقید محض تاثراتی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہونی چاہیے۔اس دور میں بہت سے نقاد سامنے آئے اور انہوں نے اپنے اپنے طور پر مارکسی تنقید کو پیش کرنے کی کوشش کی جن میں ممتاز حسین،اعجاز حسین،عبادت بریلوی،سردار جعفری،ظہیر کاشمیری،خلیل الرحمن اعظمی،محمد حسن اور قمر رئیس وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اس عہد میں بعض ایسے نقاد بھی سامنے آئے جن کا تعلق ترقی پسند تنقید سے نہیں تھا ان میں رشید احمد صدیقی،وقار عظیم،اختر اورینوی،خواجہ احمد فاروقی،کلیم الدین احمد،نور محمد حسن عسکری وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں جنہوں نے ترقی پسند تنقید سے الگ راستہ اپنایا اور نفسیاتی تنقید و جمالیاتی تنقید پر توجہ دی۔

ترقی پسند تنقید کے بعد جدیدیت کا دور آتا ہے جو ١٩٦٠ء کے بعد کا زمانہ ہے اس میں ترقی پسند تحریک کے خلاف ایک نیا رحجان سامنے آیا جسے جدیدیت کا نام دیا گیا۔اس دور میں سب سے بڑا نام شمس الرحمن فاروقی کا ھے اس کے بعد باقرمہدی، وہاب اشرفی وغیرہ کے نام آتے ہیں۔اس کے بعد ایک اور عہد مابعد جدید دور کہلاتا ہے جس میں ہم ابھی سانس لے رہے ہیں۔مابعد جدیدیت کی شروعات گوپی چند نارنگ نے کی اور اس کے بعد ما بعد جدید تنقید کی پوری ایک نسل سامنے آجاتی ہے جن میں شمیم حنفی،عتیق اللہ،ابوالکلام قاسمی،اور شافع قدوائی وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔

Close