اردو نثر کی باقاعدہ شروعات دکن سے ہوئی۔یہ البتہ درست ہے کہ بول چال کی زبان وہاں شمالی ہند سے ہی پہنچی۔ علاؤالدین خلجی پہلا مسلمان بادشاہ تھا جس کی فوجیں دکن پہنچی ۔اور وہاں کے بہت بڑے علاقے پر اپنا پرچم لہرا دیا۔یہ با ت تیرہویں صدی عیسوی کی ہے۔ان فوجوں کے ساتھ ہر طرح کے لوگ تھے۔ان میں صوفی بھی تھے اور مختلف پیشہ ور بھی۔یہ سب اپنے ساتھ بول چال کی ایک کھچڑی زبان لے گئے تھے۔ان میں بہت سے صوفی درویش تاجر اور پیشہ ور وہیں بس گئے۔اور یہی ملی جلی بولی بولتے رہے۔اس زبان پر پنجابی،ہریانی اور کھڑی بولی کا اثر تھا۔اور اس میں عربی فارسی کے بہت سے لفظ بھی شامل تھے۔یہ زبان ہندی ہندوستانی دکنی مختلف ناموں سے پکاری جاتی رہی۔

چودہویں صدی عیسوی میں اسی طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔جب محمد تغلق نے دیوگری کو دولت آباد کا نام دے کر اپنا دارالسلطنت بنایا۔دلی کے زیادہ تر باشندوں کو اس کے ساتھ دکن جانا پڑا۔کچھ عرصہ بعد دارلسلطنت پھرشمالی ہند کو منتقل ہوگیا۔لیکن صوفیاء ،فقرا ،اہل حرفہ اور دوسرے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جنھوں نے وہیں بس جانے کا فیصلہ کیا۔اس طرح شمالی ہند کی ملی جلی بولی کو ،جسے آگے چل کر ہندی، ہندوستانی ،دکنی کہا گیا دوسری بار دکن میں قدم جمانے کا موقع ملا۔
چودہویں صدی کے آخر میں دکن میں بہمنی سلطنت قائم ہو گئی۔بول چال کی اس زبان کو جو آج اردوکہلاتی ہے بہمنی سلطنت کے زیر سایہ پھیلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔تاریخ فرشتہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں سرکاری کاموں کے لئے یہی زبان استعمال ہوتی تھی۔وہاں اس سے مقبول بنانے میں صوفیاء کرام کا بڑا ہاتھ ہے۔

ان صوفیوں میں پہلا نام خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کا ہے۔شمالی ہند میں ان کے مرید ہر طرف موجود تھے مگر اپنے پیام محبت کو عام کرنے کے لیے انہوں نے دور دراز کا سفر کیا اور ۱۳۹۹ء میں دلی سے گلبرگہ پہنچے۔یہاں انکے عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ پیدا ہو گیا جن کی رہنمائی کے لیے وہ وعظ فرمایا کرتے تھے۔اس وعظ کی زبان بول چال کی زبان ہوتی تھی جو اس وقت ہندی یا دکنی کہلاتی تھی۔اور آج اردو کہی جاتی ہے۔ان کے اقوال اور نصاءح نے تحریر کی شکل بھی اختیار کی۔اس طرح متعدد کتابیں وجود میں آئیں مگر زمانہ کے ہاتھوں برباد ہو گئی۔ایک کتاب "معراج العاشقین” موجود ہے جو ان کے نام سے منسوب ہے. اسی طرح "شکارنامہ” اور "تلاوت الوجود” وغیرہ اور بھی کئی کتابیں ہیں مگر اہل نظر کا خیال ہے کہ یہ بعد کو کسی زمانے میں لکھی گئیں اور غلط طور پر خواجہ بندہ نواز کے نام سے منسوب کردی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے بیٹے اکبر حسینی نے بھی تصوف کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں ہے.۔

یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ بیجاپور کو ایک بزرگ میراں جی شمس العشاق نے اپنے تبلیغی کام کا مرکز بنایا۔اپنے مرشد کمال بیابانی کی ہدایت پر انہوں نے اپنے تبلیغی افکار کو بول چال کی زبان یعنی اردو میں قلمبند کیا۔وہ خود اپنی زبان کو ہندی کہتے ہیں ک۶ی مختصر کتابیں ان سے منسوب ہیں ان میں سب سے اہم "مرغوب القلوب” ہے .میراں جی نے جو سلسلہ شروع کیا تھا اس سے ان کے بیٹے برہان الدین جانم نے جاری رکھا "کلمۃ الحقائق” "ہشت مسائل” اور "ذکر جلی” ان کی نثری تصانیف ہیں۔وہ اپنی زبان کو کہیں گوجری اور کہیں ہندی کہتے ہیں۔ ان کے بیٹے خلیفہ امین الدین اعلیٰ نے تبلیغ کے اپنے خاندانی انداز کو جاری رکھا۔اس خاندان سے عقیدت رکھنے والوں نے ان سے بھرپور تعاون کیا۔ جنوبی ہند میں مختلف مقامات پر خانقاہیں قائم ہو گئیں۔ صوفیاء کا پیغام محبت دور تک پھیل گیا اور اس کے ساتھ ہی اردو کی اس ابتدائی شکل نے دکن میں خوب فروغ پایا ۔”گنج مخفی” ان کی مشہور تصنیف ہےاعلی کے بعد انکے شاگردوں نے قابل قدر خدمت انجام دی۔

اردو نثرکے فروغ میں سترہویں صدی کوسنگ میل کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس صدی کے وسط میں دکن کے ایک نامور شاعر اورنثرنگار وجہی نے اپنی تخلیقات کے انمول سرمائے سے اردو ادب کو مالا مال کر دیا۔انہوں نے ۱۶۶۵ءمیں اپنی نثری تصنیف "سب رس” مکمل کی ۔سچ تو یہ ہے کہ اس سے تصنیف نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ ایک فارسی کتاب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے یہ ایک تمثیل ہے مطلب یہ کہ چند چیزوں کو جسم عطا کر کےانھیں قصے کہانی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔حسن و عشق ،عقل اور دل ،قلب اور نظر وغیرہ کو مجسم مانکرایک ایسی داستان پیش کی گئی ہے جس سے اخلاق کی تعلیم ملتی ہے۔ سب رس کا اسلوب مقفع ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں غیر معمولی سادگی اور دلکشی پائی جاتی ہے۔وجہی نے درست ہی لکھا ہے کہ "آج لگن جہان میں, ہندوستان میں,ہندی زبان میں ،اس لطافت اس چھنداں سوں،نظم ہور نثر ملا کر ,گلا کر یوں میں بولیا ،”غرض مواد اور اسلوب دونوں کے اعتبار سے ملا وجہی کی سب رس قدیم اردو نثر کا شہکار ہے۔

دکن میں سب رس کے بعد بھی نثری تصانیف کا سلسلہ جاری رہا۔مذہب تصوف کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھی گئیں۔پنچ تنتر اور ہتو یدیش کی کہانیوں کو "طوطی نامہ” کے نام سے پیش کیا گیا۔یہ ترجمہ براہ راست نہیں بلکہ فارسی سے کیے گئے ہیں۔لیکن ان کتابوں کو کوئی خاص ادبی مرتبہ حاصل نہیں۔۔

ادھر شمالی ہند میں اردو کی مقبولیت میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔بول چال کی زبان کے طور پر تو اس نے ایسا مقام حاصل کرلیا کہ کوئی اور زبان اس کے مدمقابل نہ رہی۔لیکن اہل قلم فارسی زبان میں لکھنے کو ہی باعثِ افتخار سمجھتے رہے۔اورنگزیب اور بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں میر جعفر زٹلی نے فارسی اور اردو کی ملی جلی زبان میں جو مزاحیہ انداز کے شعر کہے یا بول چال کی نثر میں جو چھوٹے چھوٹے فقرے اور جملے کہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زبان اپنی مقبولیت و توانائی کا ثبوت دینے لگی تھی۔
فضل علی فضل کی "کربل کتھا” شمالی ہند کی پہلی نثری کتاب ہے جو ۱۷۳۱ء میں مکمل ہوئی۔17سال بعد فضلی نے اس پر نظر ثانی کی۔ اس وقت دستور تھا کہ محرم کی مجلسوں میں ملا حسین واعظ کاشفی کی فارسی کتاب ۔”روضتہ الشہدا "پڑھی جاتی تھی جسے عام لوگ نہیں سمجھ پاتے تھے ۔فضلی نے اس سے عوام کی زبان میں منتقل کردیا۔اس میں کربلا کے واقعات اور شہادت کا پُردرد بیان ہے۔مصنف کا مقصد کوئی ادبی شہکار پیش کرنا نہیں ہے اصل مدعا حصولِ ثواب ہے لیکن غیر ارادی طور پر انہوں نے ایک ایسی کتاب پیش کردی جسے اردو نثر کے ارتقا میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

کربل کتھا میں فارسی عربی کے بہت سے لفظوں کا استعمال ہوا ہے۔اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ کسی مذہبی کتاب میں فارسی عربی کے الفاظ سے بچنا ممکن ہی نہ تھا ۔دوسری بات یہ کہ اس زمانے میں شمالی ہند کی بول چال میں کثرت سے ان دونوں زبانوں کے لفظ کمال ہوتے تھے۔کربل کتھا میں دکنی اردو کے کچھ لفظ اور محاورے میں پائے جاتے ہیں اس سے بعض لوگوں نے اندازہ لگایا کے فضلی دکن کے رہنے والے تھے لیکن یہ خیال بے بنیاد ہے۔
قدیم اردو نثر کا ایک اہم نمونہ سودا کا دیباچہ ہے جو انہوں نے اپنے مجموعہ مراثی پر لکھا ہے اس پر فارسی نثر کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔زبان مقفی ہے اور فارسی عربی الفاظ کی کثرت ہے۔سودا نے میر تقی میر کی مثنوی "شعلہ عشق” کو بھی اردو نثر میں منتقل کیا تھا جو اب دستیاب نہیں اس لیے اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔۔

قدیم اردو نثر کے ارتقا میں کلام پاک کے دو تراجم کا ذکر بھی ضروری ہے۔شاہ ولی اللہ دہلی کے ایک لائق احترام بزرگ تھے کلام پاک کے یہ دونوں ترجمے اُن کے دو بیٹوں۔ شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر کے قلم سے ۱۷۸۶ء اور ۱۷۹۰ء میں وجود میں آئے مقصد یہ تھا کہ عربی سے واقفیت نہ رکھنے والے قرآن شریف کے مطالب سے واقف ہو سکیں ۔یہ بہت نازک کام تھا مطلب مترجمین کی ساری توجہ اس پر رہی کہ مطلب بالکل صحیح ادا ہو اس لئے ترجمہ کی روانی کا خیال نہیں رکھا جا سکا ۔آگے چل کر ایسے ترجمہ بھی ہوئے جن کی ادبی حیثیت مسلم ہے لیکن اردو نثر کے ارتقا میں متذکرہ بالا دونوں ترجموں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اردو نثر کی ترقی میں صوبہ بہار نے بھی قابل ذکر خدمات انجام دیں۔زمانہ قدیم سے لے کر عہد حاضر تک اردو زبان اس خطہ ہند کے احسان سے گراں بار ہے کہ یہاں تسلسل کے ساتھ اردو شعر و ادب کی خدمت کی جاتی رہی ہے 17ویں صدی سے ہی یہاں اردو نثر و نظم کے نمونے ملنےشروع ہوجاتے ہیں۔ابتدائی تخلیقات زیادہ تر مذہبی نوعیت کی ہیں۔ان میں شاہ عماد پھلواری کا نثری رسالہ "سیدھا رستہ, ظہور کا رسالہ نماز اور محمد اسحاق کا رسالہ ۔معتیہ خاص طور پر اہم ہیں۔

اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخر میں اردو نثر کی جو سب سے اہم کتاب وجود میں آئی وہ میرحسین عطا تحسین کی "نو طرز مرصع” ہے یہ ایک فارسی داستان قصہ چار درویش کا ترجمہ ہے تحسین کا وطن اٹاوا تھا لیکن ملازمت کے سلسلے میں کافی عرصہ کلکتہ میں قیام رہا۔ وہ ایک انگریز فوجی افسر کے میر منشی تھے ۔اس افسر کے ولایت واپس جانے کے بعد تحسین نے فیض آباد کا رخ کیا۔ فارسی زبان وادب کااچھا علم رکھتے تھے ۔اسی کی بدولت نواب شجاع الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو گے۔
تحسین بہت سی فارسی کتابوں کے مصنف ہیں مگر جس کارنامے نے انہیں زندہ جاوید بنا دیا وہ "نو طرز مرصع” ہے اس کا اسلوب رنگین اور مقفع ہے.فارسی عربی الفاظ کی بھرمار نے اسے مشکل اور عام لوگوں کے لیے ناقابلِ فہم بنا دیا ہے ۔تاہم اردو نثر کی تاریخ میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ عزت نے اپنے کلیات پر اردو میں ایک دیباچہ لکھا اس کے علاوہ ویلور کے ایک شاعر اور نثر نگار محمد باقر آگاہ نے اپنی اکثر شعری تخلیقات پر اردو میں دیباچے لکھے۔ان کی ایک نثری اردو تصنیف” ریاض السیر” ہے جس کا اسلوب سادہ ہے۔
یہ ہے اٹھارہویں صدی عیسوی تک اردو نثر کے ارتقا کی مختصر کہانی۔۔۔۔۔

Close