تنقید کے مختلف دبستان ہیں جن میں تاثراتی تنقید کا بھی ایک دبستان ہے۔بعض لوگ جمالیاتی تنقید اور تاثراتی تنقید کو ایک ہی چیز خیال کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں۔دونوں میں کچھ خصوصیات مشترک ضرور ہے مگر دونوں کا طریقہ کار جدا گانا ہے۔

یہ غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی کہ جمالیاتی تنقید میں بھی تاثرات کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ جمالیاتی تنقید میں صرف تاثرات ہی سب کچھ نہیں،اس کے سوا بھی بہت کچھ ہے۔تاثراتی تنقید ادب کا صرف ایک رخ سے مطالعہ کرتی ہے اور فقط یہ دیکھتی ہے کہ کسی فن پارے سے ذہن پر کیا تاثرات مرتب ہوتے ہیں۔اگر خوشگوار اثر پڑتا ہے تو یقینا وہ فن پارہ قابل قدر ہے۔

تاثراتی تنقید میں والٹر پیٹر کا نام بہت اہم ہے اس نے کہا کہ کسی ادبی تخلیق کو پرکھنے کا پیمانہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ اس کے مطالعے سے ذہن پر کس قسم کا اثر ہوا۔اسپنگارن کا خیال ہے کہ کسی فن پارے سے تاثرات قبول کر کے ان کا اظہار کر دینا ہی تنقید نگار کی ذمہ داری ہے۔اس کا نمونہ وہ ان الفاظ میں پیش کرتا ہے:

"یہ ایک دلکش نظم ہے۔اسے پڑھ کر میرے دل میں مسرت کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔بس اتنا بتا دینا کافی ہے اس سے زیادہ میری کوئی ذمہ داری نہیں”

اسپنگارن شاعری کی افادیت اور مقصدیت کا مخالف ہے۔اس کی رائے میں نظم نہ اخلاقی ہے نہ غیر اخلاقی۔وہ صرف آرٹ کا ایک نمونہ ہوتی ہے۔اس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ:

"اگر ہم لوگ تاثرات کے معاملے میں حساس ہوں اور ان کا اظہار کرنے پر قادر ہوں تو ہم میں سے ہر شخص ایک ایسی نئی کتاب کی تخلیق کرے گا جو اس کتاب کی جگہ لے لی گئی جس کے ذریعے ہم نے وہ تاثرات حاصل کیے تھے”

اسی لیے اسپنگارن تاثراتی تنقید کو ‘جدید تنقید‘ اور ‘تخلیقی تنقید‘ کہتا ہے۔
والٹر پیٹر اور اسپنگارن کے ساتھ تیسرا اہم نام آسکر واءلڈ کا ہے۔ان تینوں نے تاثراتی تنقید کے دبستان کی بنیاد کو مستحکم کیا۔ان میں اسپنگارن کا نام سب سے نمایاں ہے۔

اس کی رائے ہے کہ تنقید کے دوسرے دبستان ادب کے ساتھ انصاف نہ کرسکے۔کوئی کافیہ ردیف اور عروض کے چکر میں الجھا رہا، کسی نے تاریخ کو اتنی اہمیت دے دی کے فن پارہ اس میں گم ہو کر رہ گیا،کسی نے فنکار کو سمجھنے اور اس کی نفسیات کو جاننے پر ساری توجہ صرف کردی۔تخلیق سے انصاف کوئی نہ کرسکا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے تاثراتی تنقید کا دبستان وجود میں آیا۔

اسپنگارن مواد کو بالکل اہمیت نہیں دیتا وہ کہتا ہے کہ شعر میں جو بات کہی جا رہی ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ، اچھی ہے یا بری یہ دیکھنا اور اس پر رائے دینا نقاد کا کام نہیں۔ یہ فلسفی کی ذمہ داری ہے۔نقاد کی ساری توجہ ہیت پر رہنی چاہیے یعنی اس کا کام یہ دیکھنا ہے کہ بات کو کس انداز سے کہا گیا اور اسے پڑھنے والے کو مسرت حاصل ہوئی یا نہیں۔شاعری اخلاق کو سدھارنے کا آلہ نہیں جی کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔

اردو تنقید پر روز اول سے تاثراتی تنقید کا غلبہ رہا ہے۔مشاعروں کی واہ واہ اور سبحان اللہ تاثراتی تنقید ہی کی ایک شکل ہے جس کا آج تک رواج ہے۔اس تنقید کی خامیاں اب پوری طرح نمایاں ہو چکی ہیں مگر اس کی جھلکیاں آج بھی کہیں نہ کہیں نظر آ ہی جاتی ہیں۔

اردو تنقید کے اولین نمونے شعرائے اردو کے تذکروں میں ملتے ہیں۔ان کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تنقید یا تو عروضی ہے یا پھر تاثراتی۔تذکروں کے بعد جن نقادوں نے تاثراتی تنقید کو اپنایا ان میں اہم ہیں: محمد حسین آزاد،شبلی نعمانی،مہدی افادی،عبدالرحمن بجنوری،نیاز فتح پوری،فراق گورکھپوری،محمد حسن عسکری،رشید احمد صدیقی اور خورشید الاسلام۔ان میں سے بعض کلیتا تاثراتی نقاد ہیں اور بعض کے یہاں کہیں کہیں تاثراتی تنقید کے نمونے مل جاتے ہیں۔

محمد حسین آزاد سرسید تحریک سے متاثر تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ بدلے ہوئے حالات میں شعر و ادب کی دنیا میں بھی انقلاب آئے۔وہ ادب کی مقصدیت کے قائل تھے مگر عملی تنقید میں عموما تاثراتی نقاد کا منصب اختیار کرتے ہیں۔آب حیات میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

"جو کیفیت وہ یعنی شاعر آپ اٹھاتا ہے اس کے لیے ڈھونڈتا رہتا ہے کہ کیسے لفظ ہوں اور کس طرح انہیں ترتیب دوں تاکہ جو کیفیت اس کے دیکھنے سے میرے دل پر طاری ہے وہی کیفیت سننے والے کے دل پر چھا جائے”

علامہ شبلی کا شمار اردو تنقید کے بانیوں میں ہوتا ہے۔علمائے مشرک کے تنقیدی خیالات سے وہ پوری طرح باخبر تھے۔میر عمر بھر ساتھ ہی انہوں نے تنقید کے مغربی افکار سے بھی کسی حد تک واقفیت فراہم کی تھی۔فن تنقید کے بارے میں انہوں نے بڑی فکر انگیز باتیں کہی ہیں مگر ان کی تحریروں سے بھی تاثراتی تنقید کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے شعر کی جو تعریف کی ہے اس سے ان کے تاثراتی رحجان کا اندازہ ہوتا ہے۔لکھتے ہیں:

"جو جذبات الفاظ کے ذریعہ سے ادا ہوں وہ شعر ہیں اور چونکہ سننے والے کے دل پر بھی وہی اثر طاری ہوتا ہے جو صاحب جذبہ کے دل پر طاری ہوا ہے اس لیے شعر کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ جو کلام انسانی جذبات کو برانگیختہ کرے اور ان کو تحریک میں لائے وہ شعر ہے”۔

مہدی افادی کا شمار بڑے نقادوں میں نہیں کیونکہ انہوں نے بہت کم لکھا۔ ان کے تنقیدی مضامین‘افادات مہدی‘ میں شامل ہیں۔اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا انداز سر تا سر تاثراتی ہے۔مثلا اکبر الہ آبادی کے بارے میں وہ اس طرح کی رائے دیتے ہیں” جو فقرے انکی زبان سے نکلتے ہیں سکھر انشاء پردازی کے جواہر ریزے ہوتے ہیں”۔

نیاز فتح پوری نے ایک عرصے تک اردو دانوں کے ادبی ذوق کی تربیت کی۔ہمارے قدیم شعری سرمائے پر ان کی گہری نظر تھی۔ان کا شمار دراصل جمالیاتی نقادوں میں ہے لیکن کہیں کہیں صرف تاثرات کی کارفرمائی بھی نظر آتی ہے۔اس لیے یہاں ان کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے۔

مجنوں گور کھپوری بھی کچھ دنوں اس دبستان سے وابستہ رہے لیکن جلد ہی اس سے تعلق ترک کر لیا۔فراق گورکھپوری البتہ شروع سے آخر تک اسی دبستان تنقید سے متعلق رہے۔

عبدالرحمن بجنوری کے ‘محاسن کلام غالب‘ کا پہلا ہی جملہ” ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔وید مقدس اور دیوان غالب"یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ وہ کلیتاً تاثراتی تنقید نگار ہیں۔تاثراتی تنقید نگاروں میں ایک اہم نام محمد حسن عسکری کا ہے ‘انسان اور آدمی‘ کے پیش لفظ میں فرماتے ہیں:

"چند باتیں دیکھ کر یا چند کتابیں پڑھ کر میرے اندر جو ردعمل پیدا ہوا ہے،میں تو صرف اسے بیان کررہا ہوں ۔یہ ردعمل دوسروں کے لیے کہاں تک قابل قبول ہے اس کا خیال رکھنا میرے لیے قطعی غیر ضروری ہے”
اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شروع میں تاثراتی دبستان تنقید کا ان پر کتنا غلبہ تھا”ستارہ یا بادبان"میں یہ اثر کم تو نظر آتا ہے مگر انکا غالب رحجان تاثراتی تنقید ہی کی طرف ہے۔

پروفیسر رشید احمد صدیقی اردو کے نامور انشاء پرداز ہیں۔ان کی تمام تحریروں میں جو چیز قاری کو بطور خاص اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ ان کا پر لطف اور حسب ضرورت طنز آمیز انداز تحریر ہے۔انہوں نے متنوع موضوعات کا انتخاب کیا ان میں تنقید بھی شامل ہے جس کا نمونہ یہ ہے”شاعر کی زبان سے عالم بے خودی میں ایک ترانہ نکل جاتا ہے جو سامع سے دماغ تک پہنچ کر ہم کو وارفتئہ ہستی کر دیتا ہے” گویا تنقیدی مضامین میں بھی ان کی توجہ کا مرکز زبان رہتی ہے اور وہ انداز بھی تاثراتی تنقید کا اختیار کرتے ہیں۔

ایسی ہی ہمہ گیر شخصیت پروفیسر خورشید اسلام کی ہے وہ شاعر ہیں، انشائیہ نگار ہیں اور ساتھ ہی نقاد بھی۔ان کے یہاں تاثراتی تنقید کے نمونے بھی مل جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر مضامین سائنٹیفک اور جمالیاتی تنقید کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں۔

اس داستان کا اثر اردو تنقید پر بہت گہرا ہے اور اس کی جھلک ہر تنقید نگار کے یہاں کہیں نہ کہیں نظر آ جاتی ہے مگر یہاں سب کا ذکر ممکن نہیں۔

Close