ترقی پسند تنقید

ترقی پسند تنقید دراصل ترقی پسند تحریک کی دین ہے۔ترقی پسند تحریک ١٩٣٦ عیسوی میں وجود میں آئی جس کا بنیادی مقصد ادب اور زندگی کا رشتہ جوڑنا تھا۔ ١٩٣٦ء میں جب ترقی پسند تحریک کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی تو اس کے زیر اثر جو ادب تخلیق ہوا اس نے اپنی پرکھ کے لیے مارکسی تنقید کی ضرورت محسوس کی۔

مارکسی تنقید کو ہی ترقی پسند تنقید اور سماجی تنقید کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور مارکسی تنقید ہی ایک ایسی تنقید ہے جسے اردو میں باقاعدہ ایک دبستان قرار دیا جاسکتا ہے۔ترقی پسند ادیبوں نے زندگی میں رونما ہونے والے مسائل کو اپنا موضوع بنایا یعنی سماج اور اس سے وابستہ مسائل کو اپنی تخلیقات میں پیش کرنے لگے اور ادب برائے زندگی کا تصور پیش کیا۔

مارکسی تنقید میں ادب کے مطالعے کے لیے سماجی حالات، طبقاتی تقسیم، اور تاریخ کے مادی عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔کیونکہ اس کے تجزیے کے بغیر ادب کا سماجی نقطہ نظر واضح نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ مارکسی نقاد جمالیاتی، نفسیاتی، اور تاثراتی تنقید وغیرہ کو تسلیم نہیں کرتے۔مارکسی یا سماجی تنقید میں ادیب زندگی اور معاشرے کے ارتقاء کے مختلف عوامل کا ذکر کرتا ہے اور ساتھ ھی امیر وغریب، حاکم ومحکوم، سرمایہ دار و مزدور، کسان و زمیندار وغیرہ کی صورت میں پائی جانے والی طبقاتی کشمکش میں غریب اور پسماندہ طبقے کا ساتھ دیتا ہے۔

ایک مارکسی نقاد ادب پارے میں صرف داخلیت،عشق ومحبت یا رومانی باتوں سے تعلق نہیں رکھتا، وہ ایسے ادب کو نظر انداز کردیتا ہے۔ایسے ادب پارے جس میں عوام کی ترجمانی نہیں ہوتی، عوام کی کشمکش اور ان کے دکھ درد کو نہیں پیش کیا جاتا تو ایسے ادب کا کوئی فائدہ نہیں،یہ مارکسی نقادوں کا ماننا تھا۔اسی لیے مارکسی نقادوں نے ادب براۓ زندگی کے تصور کو عام کیا۔

مارکسی تنقید یا ترقی پسند تنقید کا بنیادی سوال یہی ہے کہ ادیب طبقاتی کشمکش میں کس طبقے کی حمایت کررہا ہے۔کیا وہ دم توڑتی ہوئی قدروں کے گیت گاتا ہے یا زندگی میں رونما ہونے والے مسائل کو پیش کرتا ہے اور عوام و محنت کش طبقہ کے ساتھ شانہ ملا کر چلتا ہے۔اگر وہ عوام کا دوست ہے اور عوامی مسائل کو نمایاں کرتا ہے تو ترقی پسند نقاد انہیں زاویوں سے کسی بھی فن پارے کا جائزہ لیتے ہیں۔ترقی پسند تنقید میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ادیب کیا کہتا ہے،اسے کسی سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ وہ کیا کہتا ہے یعنی ترقی پسند تنقید ان تمام نظریات کو پیش نظر رکھتی ہے جو عوام، مزدور، کسان اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔

جن تنقید نگاروں نے ترقی پسند تنقید کو فروغ دیا وہ ہیں اختر حسین رائے پوری،سجاد ظہیر،مجنوں گورکھ پوری،احتشام حسین،ممتاز حسین،سردار جعفری وغیرہ۔

اختر حسین رائے پوری نے ایک مضمون "ادب اور زندگی"کے عنوان سے لکھ کر اہل علم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔یہ اردو میں پہلا مضمون ہے جس میں ادب کو مارکسی نظریات کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔سجاد ظہیر کا شمار ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے مگر ان کے تنقیدی نظریات میں اعتدال و توازن پایا جاتا ہے۔وہ ادب کو پروپیگنڈا بنانے کے خلاف ہیں اور جذباتیت سے دور رہتے ہیں۔

ان کا مضمون "اردو کی جدید انقلابی شاعری” اس کا گواہ ہے۔مجنوں گور کھپوری پہلے تاثراتی تنقید نگار تھے، بعد کو و ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے۔انہوں نے اپنی تحریروں میں اس پر زور دیا کہ ادب اور سماج کا رشتہ اٹوٹ ہے لیکن جب ترقی پسندوں نے ادب کے تقاضوں کو مسلسل نظرانداز کیا تو وہ اس تحریک سے بدظن ہوگئے۔

احتشام حسین کا اس تحریک سے تعلق ساری زندگی استوار رہا۔انہوں نے بہت کچھ لکھا اور اپنی تحریروں سے ترقی پسندی اور اشتراکیت کی مسلسل اشاعت کی۔ممتاز حسین کا نامور ترقی پسند نقادوں میں شمار ہوتا ہے۔ان کا مطالعہ وسیع ہے اور وہ گہری تنقیدی بصیرت رکھتے ہیں۔ان کا مقالہ”ماضی کے ادب عالیہ سے متعلق"ایک عرصے تک موضوع بحث رہا۔اس کی شدید مخالفت کی گئی لیکن اہل نظر آخر کار ان کی رائے سے اتفاق پر مجبور ہوئے۔سردار جعفری شاعر ہونے کے ساتھ تنقید نگار بھی ہیں۔

ترقی پسند تحریک سے ان کا تعلق بہت مضبوط ہے۔وہ تحریک کی وکالت میں بہت مبالغے سے کام لیتے ہیں۔اور اپنے پرجوش مزاج کے سبب حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ان کی تنقید توازن کے وصف سے محروم ہے۔پریم چند ادب کی آفاقیت کے قائل تھے۔جواہر لال نہرو ترقی پسندیت کی قائل تھی مگر ادیب کا آرٹ سے دستبردار ہو جانا اور صرف خاص خاص نعروں کو دہراتے رہنا انھیں ناپسند تھا۔ان کا خیال تھا کہ ایسی چیزوں کی ادب میں جگہ نہیں،سیاست میں ہے۔پروفیسر کلیم الدین احمد نے ادب کے سلسلے میں مارکسی نظریات و ترقی پسند تنقید پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

بنیادی طور پر یہ کہا کہا جاسکتا ہے کی ترقی پسند تنقید نے جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور انہوں نے جو عام بھولے بالے انسانوں کا استحصال کیا ان کے خلاف تخلیقات پیش کیں۔یعنی سماجی محرکات اور ان میں رہنے والے تمام لوگوں کے مسائل کو پیش کرنا ترقی پسند ادیبوں کا بنیادی مقصد تھا۔اس لیے ترقی پسند تنقید میں اسی حوالے سے بات کی جاتی ہے اور کسی بھی ادب پارے کی تنقید میں اس بات کو ذہن میں رکھا جاتا ہے کہ اس میں ادب اور زندگی کا تصور پیش کیا گیا ہے یا نہیں۔

طبقاتی کشمکش، اونچ نیچ، ذات پات، رنگ و بید خوہ وہ کسی سطح پر ہو ان تمام باتوں کو ترقی پسند تنقید نگار پیش نظر رکھتے ہیں اور انہی کی روشنی میں وہ کسی بھی ادب پارے کی تنقید کرتے ہیں۔ترقی پسند تنقید نگاروں میں اختر حسین راۓ پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، ممتاز حسین، عزیز احمد، محمد حسن، قمر رئیس کے نام قابل ذکر ہیں۔ان نقادوں نے ادب کے ترقی پسند تصورات کو ذہن میں رکھتے ہوئے فن پارے کی تنقید کی ہے۔

Close