سائنٹیفک ادبی تنقید سے مراد معروضی(objective) تنقید ہے ینی ادب کو ایسے معیاروں سے پرکھنے کی کوشش جن میں سائنس کی سی صحت، قطریت، اور غیرجانبداری ہو۔یہاں یہ گنجائش نہیں کی نقاد اپنی ذاتی پسند ناپسند یا نجی تعصبات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ صادر کردے۔یہ ردعمل ہے اس تمام تنقید کے خلاف جس کے پاس کوئی اصول نہیں، کوئی ضابطہ نہیں۔بس ایک من کی موج ہے کہ جدھر چاہے نقاد کو بہا لے جائے۔ادب اور تنقید کے بھی قوانین ہوسکتے ہیں اور ان کی روشنی میں کسی فن پارے کی قدر و قیمت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

سائنٹفک تنقید کے سلسلے میں ایک دشواری یہ رہی کہ مختلف دبستان مثلا تاریخی، مارکسی، جمالیاتی، استقرائی–سب نے اپنے اپنے اصول وضع کیے اور ان پر ادب کو پرکھا۔اس لئے یہ سب اس بات کے دعویدار رہے کہ ان کی تنقید سائنٹیفک ہے۔مگر یہ دعویٰ غلط ہے۔مثلا جمالیاتی تنقید اس کا پتہ تو لگا لیتی ہے کہ کوئی فن پارہ ہمیں پسند ہے تو اس کا کیا سبب ہے اور اس میں وہ کونسا خسن ہے جو ہمیں اپنی طرف راغب کرتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتی ہے کہ وہ کیا مادی اسباب تھے جنہوں نے اس فن پارے کو جنم دیا۔اسی طرح نفسیاتی تنقید فنکار کے ذہن تک تو رسائی حاصل کر لیتی ہے مگر باقی تمام چیزوں سے بے خبر رہتی ہے۔

اصلیت یہ ہے کہ صرف وہ تنقید ساینٹئفک تنقید کہلانے کی مستحق ہے جو کسی ایسے وسیلے کو نظر انداز نہ کرے جس سے فن یا فنکار پر روشنی پڑھ سکتی ہو۔وہ حسب ضرورت تاریخی، استقرائی، جمالیاتی، عمرانی، نفسیاتی۔گویا تنقید کے تمام دبستانوں سے مدد لیتی ہے۔وہ نہ فن کو نظر انداز کرتی ہے نہ فنکار کو اور دونوں کو ہر زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

شارب ردولوی لکھتے ہیں کہ سائنٹفک تنقید ادبی تخلیقات اور فنکار سے متعلق تمام مباحث کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور جمالیاتی، نفسیاتی، سماجی اور مروجہ خیالات کی روشنی میں فنی تخلیق کی اہمیت کا پتہ لگاتی ہے۔یہ نظریۂ تنقید ادبی فضا میں ایسے ذریعے کا کام کرتی ہے جو ادب کے سمجھنے میں معاون و مددگار ہوتا ہے۔

سائنٹفک تنقید کو سمجھنے کے لئے پروفیسر اسلوب احمد انصاری کے مضمون کا مطالعہ ضروری ہے۔انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس میں سے چند ضروری باتیں آسان زبان میں یہاں پیش کی جاتی ہیں۔سائنٹفک تنقید اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ تاریخی اور مادی خالات ہی کسی خاص طرح کے ادب کو جنم دیتے ہیں۔اس کے نزدیک ادب جماعتی ہوتا ہے۔ مواد اور ہیئت اس طرح گھلے ملے ہوتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا تاہم مواد کی اہمیت کو کسی طرح نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔

سائنٹفک نظریہ تنقید روایت پرستی کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ادب کے فروغ کے لیے وہ نئے نئے تجربوں کو ضروری سمجھتا ہے۔وہ فنکار کے خیالات کو ہوبہو پیش نہیں کرتا بلکہ ان پر فیصلہ بھی صادر کرتا ہے۔ادب برائے ادب کو وہ اس لئے شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ فن کو سماج سے جدا کر دیتا ہے۔تصوف پرستوں کو وہ پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ لوگ ایسی اندرونی اور نجی دنیائوں کو آباد کرتے ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔نیز تنقید کا یہ نظریہ ماضی کی روایات کا احترام کرتا ہے لیکن ماضی پرستی کی ترغیب نہیں دیتا۔

سائنٹفک تنقید اپنے اصول رکھتی ہے۔یہ اصول کسی فرد یا کسی گروہ کی خواہش یا ذاتی پسند سے نہیں بنائے جاسکتے بلکہ خود تخلیق سےاخذکیےجاتےہیں۔اور وہ اس طرح کہ اس تخلیق کے محرکات پر، اس کے عہد وعہد کے حالات پر، مصنف کے خیالات ورحجانات پر غور کرنے کے بعد یہ وضع کیے جاتے ہیں۔جو نقاد انھیں وضع کرے اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معروضی نقطہ نظر رکھتا ہو اور فن پارے کا ہمدردی اور گہرائی سے مطالعہ کرنے کی صلاحیت کا مالک ہو اور اس کے مزاج میں جلد بازی نہ ہو۔

ادب میں نظریے کی گنجائش ہے یا نہیں اس موضوع پر برابر بحث ہوتی رہی ہے۔لیکن چونکہ ساینٹئفک تنقید کیسی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتی اس لیے وہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ فنکار کی شخصیت اور فن کار کے نظریات بہرحال اس کی تخلیق میں جگہ پاتے ہیں خواہ وہ نمایاں ہوں یا زیر زمین۔ اتنی بات پر اہل نظر کا اتفاق ہے کہ نظریات بہت کھلے ہوئے نہیں ہونے چاہییں۔ضروری ہے کہ ان سے فن مجروح نہ ہو ورنہ ادب پارہ رعنائی و دلکشی کھو بیٹھے گا۔

سائنٹفک تنقید کی زبان علمی اور واضح ہونی چاہیے۔صراحت اور قطعیت اس کے لیے بہت ضروری ہے۔استعارہ، ایہام اور رمزوکنایہ اس کے لئے قطعی غیر موزوں ہیں۔ان کی اصل جگہ شاعری ہے۔شاعرانہ اور رنگین زبان کی بھی یہاں گنجائش نہیں۔

تنقید کے مختلف دبستانوں نے درحقیقت مغرب ہی میں فروغ پایا۔البتہ مارکسی دبستان نے ترقی پسند تنقید کے نام سے اردو ادب میں کار نمایاں انجام دیا۔تنقید کا سائنٹیفیک نظریہ بھی مغرب کی پیداوار ہے اور وہیں سے یہ پھل بہولا۔اتنا ضرور ہے کہ اردو تنقید بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔اس سلسلے میں پہلا نام سرسید کا ہے۔ ان کا ذہن منطقی تھا اور وہ ہر چیز کو عقل اور سائنس کی کسوٹی پر کسنے کے عادی تھے۔

عدیم الفرصتی نے موقع نہ دیا کہ وہ تنقید کی طرف سنجیدگی سے توجہ کر سکیں مگر رہبری کا فرض انہوں نے بہرحال ادا کردیا۔ان کے تنقیدی نظریات بڑے با وزن اور وقیع ہیں مگر وہ ان کے مختلف مضامین میں منتشر ہیں۔تاہم انہوں نے اپنے رفقاء کے دلوں میں یہ احساس ضرور پیدا کردیا کہ ادب و تنقید کے لیے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد حسین آزاد تاثراتی تنقید نگار ہیں مگر تنقید ادب کے لیے انھوں نے کئی اہم اصول وضع کیے۔اردو تنقید کے نظریہ سازوں میں شبلی کا نام لینا بھی ضروری ہے لیکن جس نقاد کے یہاں سائنٹیفک بنیادوں پر تنقید کی مکمل عمارت مفتی اور سر بلند ہوتی نظر آتی ہے وہ حالی ہیں جنہوں نے اردو کو تنقید کو ایک جامع نظام دیا، ادب اور زندگی کے محکم تعلق کی وضاحت کی،مقصدیت کو ادب کی روح قرار دیا، شعر کی ماہیت پر روشنی ڈالی،اچھی شاعری کی خصوصیات متعین کیں اور اردو کی شعری اصناف میں ان خصوصیات کی تلاش کی۔اس لیے اردو کی سائنٹفک تنقید حالی کے احسان سے گراں بار ہے۔

سرسید تحریک کے پہلو بہ پہلو تاثراتی تنقید کا سلسلہ بھی جاری رہا۔یہ تنقید کا وہ انداز ہے جسے ساینٹئفک تنقید کی مکمل ضد کہنا چاہیے۔اس کی جڑیں اردو ادب میں اتنی گہری ہیں کہ اس کی ساری خرابیاں واضح ہونے کے باوجود اسے مٹایا نہ جا سکا۔لیکن ترقی پسند تحریک نے زور پکڑا تو اس کا جادو کم ضرور ہوا۔ترقی پسند تحریک کے اولین نقاد انتہاپسندی کا شکار رہے۔اس لیے ان کی تنقید یک رخی ہے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ترقی پسند تنقید میں اعتدال و توازن پیدا ہوا۔

ترقی پسند نقادوں میں پروفیسر احتشام حسین پہلے شخص ہیں جنہوں نے تنقید کے متوازن اصول مرتب کیے۔ہر چند کے شدت پسندی ان کے مزاج میں بھی ہے اور اشتراکیت سے وہ کسی طرح دامن نہیں چھڑا سکے مگر انہوں نے ادب کی بنیادی قدروں کو بہرحال اہمیت دی۔اس لیے سائنٹفک نقادوں میں ان کا شمار بھی لازم ہے۔پروفیسر محمد حسن اور قمر رئیس مارکسی نظریات کے حامل ہیں مگر شعروادب کے مسائل پر ان کی نظر گہری ہے اور وہ اوصاف ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے جو ادب کی ابدیت و آفاقیت کے ضامن ہیں۔ممتاز حسین نے بھی ترقی پسند تنقید کو وسعت دیں اور اسے ٹھوس بنیادیں فراہم کیں۔

اسی زمانے میں تنقید نگاروں کا وہ سلسلہ بھی جاری رہا جس کا رشتہ حالی سے ملتا ہے۔مگر جس نے اپنی راہیں آپ تلاش کیں ان میں مولوی عبدالحق، مجنوں گورکھپوری، کلیم الدین احمد، آل احمد سرور، سید عبداللہ، ابواللیث صدیقی، عبادت بریلوی گوپی چند نارنگ کے نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے ادب کو مختلف زاویوں سے دیکھا، پرکھا اور اردو میں سائنٹفک تنقید کی بنیادیں استوار کیں۔

Close