پروفیسر محمد حسن کو مارکسی نقاد اور اردو تنقید میں سید اختشام حسین کا جانشین کہا جاتا ہے مگر اس رائے میں صرف جزوی صداقت ہے۔وہ زندگی اور سماج سے ادب کے گہرے تعلق کے قائل ہیں،آرٹ کو سماج کا معمار، اخلاق کا معلم اور سیاست کا رہبر مانتے ہیں مگر اسے کسی بھی تنگ دائرے میں قید کرنے کے روداد نہیں اور کسی بھی حالت میں ان قدروں کو نظر انداز کرنے پر راضی نہیں جو فن کو ابدیت و آفاقیت عطا کرتی ہیں۔اس لیے ان کی تنقید مارکسی ہونے کے ساتھ ساتھ سائنٹیفک بھی ہوتی ہے۔

ان کے نزدیک "ہر دور کے سنجیدہ ادب کا مطالعہ لازمی طور پر مصنف کا مطالعہ، عصر کا مطالعہ اور آفاقی اقدار کا مطالعہ بن جاتا ہے”وہ ترقی پسند ادب اور جمالیاتی اقدار کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا مددگار ومعاون مانتے ہیں کہ فکروفن کے امتزاج سے ہی اعلی ادب وجود میں آتا ہے۔

محمد حسن کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ "ادبی تنقید” ١٩٥٤ء میں شائع ہوا۔اس وقت وہ پوری طرح ترقی پسند تحریک کے ہمنوا اور مارکسی ادب کے حامی تھے۔یہی وقت کا تقاضہ بھی تھا کیونکہ یہ اردو ادب پر رومانیت کے غلبے کا زمانہ تھا جس کے نتیجے میں ادب کا زندگی سے رشتہ ٹوٹ گیا تھا "ادبی تنقید”کے مضامین میں جگہ جگہ اس پر زور دیا گیا ہے کہ ادب کا ایک سماجی فریضہ بھی ہے۔

ادیب زندگی کی عکاسی کر کے اپنے فرض سے عہدہ برآ نہیں ہوجاتا اس کی اصل ذمہ داری ایسے ادب کی تخلیق ہے جو تلخ حقیقتوں کی دنیا میں ایک نئی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کی رہنمائی کرے۔اگر ادب ذہنوں کو بیدار نہیں کرتا اور انہیں منور نہیں کرتا تو وہ ناکارہ وبےوقعت ہے۔

ڈاکٹر حسن کے ذہن میں اس مجموعے کی اشاعت کے وقت ادب کا مقصد بالکل واضح تھا اور وہ اشتراکیت کو ایسا نظام خیال کرتے تھے جو دنیا کو مصائب سے نجات دلاسکتا ہے مگر ادب کی ادبیت کے وہ اس وقت بھی قائل تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ان کے نظامِ تنقید میں ادبی قدروں کا احترام بڑھتا ہی گیا اور ١٩٦١ء میں ان کے مضامین کا مجموعہ "شعر نو” شائع ہوا تو یہ بات بالکل صاف ہو گئی کہ ادب کی مقصدیت کے قائل ہونے کے باوجود وہ کسی بھی قیمت پر اس کی جمالیاتی اقدار کا سودا کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں کہا:

"ہمارے تنقید نگاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ادب پہلے آرٹ ہے اور بعد کو کچھ اور۔اس پر فن کے اصولوں کا اطلاق ہو گا۔شاعری کا کوئی موضوع اور مقصد کیوں نہ ہو اسے سب سے پہلے اعلی ادب پارہ ہونا چاہیے۔اگر کوئی شاعری اس معیار پر پوری نہیں اترتی تو وہ کتنی ہی کامیاب اور کارآمد کیوں نہ ہو ادب میں جگہ نہیں پا سکتی۔عورت کا پہلا کام جمالیاتی احساس کی تسکین ہے”

لیکن ان کے نزدیک وہ ادب جو صرف جمالیاتی تقاضوں کو پورا کرے اور فکر سے عاری ہو اعلی درجے کا ادب نہیں ہوسکتا۔ان کی رائے میں ہر عظیم فنکار بنیادی طور پر مفکر ہوتا ہے۔اس کا واضح فکری میلان اور مزاج ہونا لازمی ہے۔اسی لئے اقبال کی شاعری کو وہ فکر و فن کا معجزہ قرار دیتے ہیں۔

ان کا نظریہ ادب بہت متوازن ہے۔ادب کی عصریت، انفرادیت اور آفاقیت کو وہ یکساں اہمیت دیتے ہیں۔اس کے ثبوت میں ڈاکٹر شارب ردولوی نے اپنی کتاب ‘جدید اردو تنقید’ میں ان کے ایک مضمون سے مندرجہ ذیل اہم اقتباس پیش کیا ہے:

"تخلیق دراصل تین سطحوں سے ہو کر گزرتی ہے۔وہ اپنے مصنف کی ذات کا اظہار بھی ہوتی ہے،اس کے عصری شعور کی آواز بھی اور اس کے دور سے پیدا ہونے والی آفاقی اقدار کی گونج بھی۔اس لیے ہر دور کے سنجیدہ ادب کا مطالعہ لازمی طور پر مصنف کا مطالعہ، عصر کا مطالعہ اور آفاقی اقدار کا مطالعہ بن جاتا ہے”

"شعر نو”کے ایک مضمون پر پروفیسر حسن لکھتے ہیں:

"ادب سماج کا آئینہ خانہ ہے اور اس آئینے میں سماج کے عکس کا ہزار طریقے پر پڑتے ہیں،کبھی فرض کے شعور ولا شعور سے مرتب تصویروں کے ذریعے تو کبھی عمرانی زندگی اور سیاسی ہنگاموں کی پرکشائی کی شکل میں”

ان کی تصنیف "دہلی میں اردو شاعری کا فکری و تہذیبی پس منظر” کا مطالعہ یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ کسی زمانے کا ادب اپنے عہد و ماحول سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔

ادبی تنقید اور شعر نو کے علاوہ ڈاکٹر محمد حسن کی دیگر اہم تصانیف ہیں: عرضِ ہنر، جدید اردو ادب،شناسا چہرے،معاصر ادب کے پیش رو اور ادبی سماجیات۔انہوں نے ادبی مسائل پر بھی قلم اٹھایا ہے۔اور اہم مصنفین پر مضامین لکھکر عملی تنقید کے ذخیرے میں بھی قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ہندوستان کے باہر تخلیق ہونے والا ادب بھی ان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ قدیم اردو ادب اور جدید اردو ادب دونوں پر ان کی گہری نظر ہے اور دونوں کی طرف انہوں نے یکساں توجہ کی ہے۔

ادب کے سلسلے میں ایک واضح نقطہ نظر رکھنے اور ایک خاص مکتب فکر سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے شعر و ادب کو پرکھنے میں کبھی بے جا جانبداری سے کام نہیں لیا۔انہوں نے اپنے قلم کو ذاتی تعصبا ت و ترجیحات سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔کتابوں کی تعداد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بہت لکھا ہے مگر تنقید کے اعلی معیار کو برقرار رکھا ہے۔

پروفیسر محمد حسن نے عبارت آرائی سے ہمیشہ پرہیز کیا اور  اپنی بات کو واضح مدلل انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔اس کے باوجود ان کی نثر دلکشی کے وصف سے محروم نہیں۔

Close