افلاطون کی تنقید نگاری

نامور یونانی فلسفی افلاطون کا زمانہ حضرت عیسی سے لگ بھگ 400 سال پہلے کا زمانہ ہے۔وہ سقراط کا شاگرد اور ارسطو کا استاد تھا۔افلاطون شاعر تھا لیکن شاعری سے مایوس ہوکر آخرکار فلسفے کی طرف متوجہ ہو گیا۔تنقید کے فن پر اس نے کوئی مستقل کتاب نہیں چھوڑی لیکن”مکالمات افلاطون"میں ایسے اشارے موجود ہیں جن سے اس کے تنقیدی نظریات آسانی کے ساتھ مرتب کیے جا سکتے ہیں۔المکالمات میں جمہوریہ اور قانون خاص طور پراہم ہیں۔

افلاطون نے ایک جگہ کہا ہے کہ شاعری کا زمانہ رخصت ہوا اب فلسفے کا زمانہ ہے اور فلسفہ ہی علم و صداقت کا سرچشمہ ہے۔یہی نہیں بلکہ اس نے اپنی تمام نظموں کو جلا ڈالا اور جب اس نے ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا تو شاعروں کو اس سے شہر بدر کردیا۔اس لیے یہ نتیجہ نکال لیا گیا کہ وہ شاعری کا دشمن تھا۔لوگ بھول گئے کہ وہ خود شاعر تھا اور اعلی درجے کے شاعری کا قدردان! وہ اس شاعری کو ناپسند کرتا تھا جو اخلاق کو خراب کرے،عوام کے پست جذبات کو بڑھکائے،بد تہذیبی اور بد مذاقی کی تعلیم دی۔سڈنی کہتا ہے کہ افلاطون کا اعتراض شاعری پر نہیں بلکہ پست اور غیر اخلاقی شاعری پر ہے۔

افلاطون کے زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ شاعری کسی شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں۔کوئی غیبی طاقت شاعر سے یہ کام لیتی ہے۔شاعر جب شعر کہتا ہے تو وہ اپنے آپ میں نہیں ہوتا بلکہ اس پر جذب کی کیفیت یا جنون کا عالم طاری ہوتا ہے۔اس خود فراموشی کے عالم میں وہ کچھ بھی کہہ گزرتا ہے،دیوی دیوتاؤں کی توہین کرتا ہے اور انسانی جذبات میں تہذیب کے بجائے ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔

ڈرامے سے افلاطون اس لئے بے زار ہے کہ ڈرامے کے زیادہ تر کردار بزدل،بدمعاش اور مجرم ھوتے ھیں۔ڈراما نگار ڈرامہ لکھتے وقت اپنے آپ کو ان کرداروں میں جزب کر دیتا ہے اور جب ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے تو دیکھنے والوں کا بھی حال ہوتا ہے۔وہ بھی خود کو ان کرداروں کے سانچے میں ڈھال لینا چاہتے ہیں۔

افلاطون المیہ کے نسوانی کرداروں کی خاص طور پر مذمت کرتا ہے۔کیونکہ یہ عورتیں عموما عشق لڑا تھی،روتی بسورتی یا لڑتی جھگڑتی نظر آتی ہیں۔طربیہ کے کرداروں کو سستا مذاق برباد کردیتا ہے۔طربیہ کی ایک بات البتہ افلطون کو پسند ہے وہ یہ کہ جب ہم کسی کی کمزوری پر ہنستے ہیں تو یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اس کمزوری سے ہمیں بچنا چاہیے۔مطلب یہ کہ افلاطون شاعری سے اخلاقی تعلیم کا کام لینا چاہتا ہے۔

افلاطون اس شاعری کا حامی نہیں جس سے مصرف مسرت حاصل ہو۔اس کے نزدیک شاعری کا اصل کام زندگی کو بہتر بنانا ہے۔یہ مقصد اس طرح حاصل ہوسکتا ہے کہ شاعر اور ڈرامہ نگار زندگی کو ویسا نہ پیش کریں جیسی کہ وہ ہے بلکہ اس طرح دکھائیں جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔جو کردار پیش کیے جائیں وہ مثالی ہوں تاکہ اچھے کرداروں کی نقل کرنے والے بھی اچھے ہوجائیں۔اب یہ بات واضح ہو گئی کہ افلاطون معلم اخلاق تھا وہ چاہتا تھا کہ ڈرامہ اور شاعری اعلی اخلاقی تعلیم دیں۔

اعلیٰ اور اخلاقی شاعری کا قدردان ہونے کے باوجود افلاطون شاعری اور مصوری کو فلسفے سے نچلی سطح پر رکھتا ہے۔اسے شکایت ہے کہ شاعر جذبات کو توڑ مڑوڑ کے اور مصور رنگوں کو خلط ملط کرتے ہیں۔اور دونوں نقل کی نقل کرتے ہیں۔افلاطون اپنے نظریہ نقل کو ایک پلنگ کی مثال سے واضح کرتا ہے جس کی اصل شکل خدا کے دین میں محفوظ ہے۔بڑھئی پلنگ بناتا ہے تو اس شکل کی نقل کرتا ہے۔اس طرح اس کی نقل اصل سے ایک قدم دور ہوتی ہے۔

مصور پلنگ کی تصویر بناتا ہے تو وہ بڑھیئ کی نقل کی نقل کرتا ہے جو گویا اصل سے دو قدم دور اور بے وقعت ہوتی ہے۔یہی حال شاعری کا ہے۔افلاطون شاعری کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔بیانیہ شاعری،ڈرامائی شاعری،اور رزمیہ شاعری۔اور اس کا خیال ہے کہ آخری دو میں نقالی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔شاعر اور مصور کے یہاں افلاطون کو ایک اور بات مشترک نظر آتی ہے۔وہ یہ کہ دونوں کی تخلیقات ٹھوس نہیں ہوتی بلکہ موہوم عکس پیش کرتی ہیں۔اس لئے دونوں حقیقت سے کمتر درجے کی ہوتی ہیں۔

افلاطون فن کو ایک جاندار شے سے تسلیم کرتا ہے۔جس طرح جسم ،سر اورپیر رکھتا ہے اسی طرح ایک فن پارے میں آغاز وسط اور انتہا ہوتے ہیں۔جو آپس میں گہرا ربط رکھتے ہیں۔افلاطون مشق اور مطالعے کو اہمیت دیتا ہے اور اس فن کی قدر کرتا ہے جس پر محنت کی گئی ہو۔

یہ ہے افلاطون کے منتشر تنقیدی خیالات کا مختصر ساجائزہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام مسائل پر اس نے غور کیا تھا۔بلاشبہ وہ ایک عظیم مفکر تھا۔آج تقریبا 25 صدیاں گزر جانے کے بعد بھی جدید فکر پر اس کے خیالات کا عکس صاف نظر آتا ہے۔

Close