ن۔ م۔راشد ہمارے عہد کے ایک اہم نظم نگار ہیں۔ان کی تخلیقات سے اردو نظم کی دنیا میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے۔اقبال تک پہنچتے پہنچتے نظم کا رنگ اور روپ خاصہ بدل گیا تھا۔اقبال کے بعد بھی یہ تبدیلیاں جاری رہیں اور نظم میں نئے نئے تجربات کیے گئے۔جس سے نظم کا دامن وسیع ہوا اور اس کے اسالیب میں تنوع پیدا ہوا۔ لیکن راشد کی نظمیں بڑی ہنگامہ خیز اور انقلاب آفرین ثابت ہوئیں۔

ن۔م۔ راشد کے تخلیقی ذہن نے اردو نظم کے مروجہ سانچوں کو قبول نہیں کیا اور انہیں توڑ پھوڑ کے رکھ دیا۔ان کا طرز احساس، ان کی نظموں کی ہیت اور تکنیک اردو قاری کے لئے ایک نئی اور انوکھی چیز تھی۔اور اسکا گرفت میں لینا آسان نہیں تھا۔راشد کے زمانے تک جو نظمیں لکھی گئیں ان میں ایک اکہرا پن تھا۔عام طور پر تو عنوان سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ نظم میں کیا کہا گیا ہوگا لیکن راشد کی نظموں میں اس کے برعکس پیچیدگی اور ابہام ہوتا ہے۔وہ فرانس اور انگلستان کے نظم نگاروں سے متاثر تھے۔

راشد کی نظموں میں قارئین کو چونکا دیا۔ان کی نظمیں سادہ اور بیانیہ نظموں سے قطعی مختلف تھیں۔اس میں افسانوی اور ڈرامائی انداز گل مل گئے تھے۔نظم کی تعمیر کا انداز نیا تھا۔مطلب یہ کہ ہمارے قارئین تو اس کے عادی تھے کہ جو کچھ کہا جارہا ہے وہ سلسلہ وار ایک منطقی انداز سے کہا جائے۔پہلے ابتداء ہو، پھر وسط اور اس کے بعد اختتام ہو۔لیکن ان کی نظموں میں ایسا نہیں تھا۔کہیں بات درمیان سے شروع ہوجاتی تھی اور کہیں بالکل آخر سے۔گویا اکثر فلیش بیک کی تکنیک اختیار کی جاتی تھی۔یہ تکنیک وہ ہے جو ناول میں اختیار کی جاتی رہی ہے۔

ہماری نظموں میں جب واحد متکلم کا صیغہ استعمال ہوتا تھا مطلب یہ کہ شاعر ‘ میں’ کہہ کر کوئی بات کہتا تھا تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ شاعر اپنے بارے میں کچھ کہہ رہا ہے۔لیکن راشد کی اکثر نظموں میں واحد متکلم کہیں کوئی ایک کردار ہے اور کہیں مل کر کئی کردار۔بہت غور و فکر کے بعد پتہ چلتا ہے کہ کون بول رہا ہے۔نتیجہ یہ کہ ان کی نظموں کا سمجھنا عام قارئین کے لیے مشکل ہو گیا۔

راشد کی نظموں کے قاری جب معنی و مفہوم کی تہہ کو نہیں پہنچ سکے تو سرسری مطالعے کے بعد اور کبھی کبھی تو نظم کے بعض ٹکڑوں کو سامنے رکھ کر عجیب طرح کے فیصلے صادر کر دیے۔انہیں غیرسماجی، مردم بیزار،فراری، شکست خوردہ ذہنیت کا مالک،مریض،جنس زدہ اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا۔فحاشی اور عریانی کا الزام تو ان پر پے در پے لگایا گیا۔

راشد نے مغربی شاعری کے علاوہ فارسی اور اردو کی شعری روایت کا اثر قبول کیا۔ان کا زمانہ اقبال سے کچھ ہی بعد کا ہے۔ذہنی طور پر وہ اقبال کے بہت نزدیک نظر آتے ہیں۔اقبال اور راشد دونوں کی شاعری کا مرکز مشرق اور مشرق کی روح ہے۔اقبال اور راشد دونوں کو یکساں عالمی مسائل کا سامنا تھا۔لیکن دونوں کا رویہ مختلف رہا۔اپنے مضمون "راشد کا ذہنی ارتقاء” میں خلیل الرحمان اعظمی لکھتے ہیں:

"راشد کی شاعری پر جب جب میں نے غور کیا ہے اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان کی شاعری دراصل اقبال کی شعری شخصیت کا تسلسل یا اس کی تشکیل نو ہے۔راشد کے یہاں جو چیز اقبال سے مختلف ہے وہ ان کا زاویہ نگاہ ہے۔جو ان کی اپنی شخصیت اور ذاتی وجدان کی دین ہے”

"ماورا” "ایران میں اجنبی” اور "لاانسان” راشد کی نظموں کے مجموعے ہیں۔تسلسل کے ساتھ ان کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کی فنی پختگی اور سیاسی بصیرت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ایمائیت اور تہہ در تہہ علامات سے نظموں میں زیادہ گہرائی پیدا ہوتی گئی۔معنی میں زیادہ وسعت آتی گئی اور ان کا اسلوب بیان آخرکار ایسا منفرد ہو گیا کہ چند مصرعوں سے انکا شناخت کر لینا دشوار نہیں رہا۔راشد کی شاعری سے دانشور طبقہ ہی پوری طرح لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

دریچے کے قریب، رقص، گناہ، انتقام، پہلی کرن، من سلویٰ،یہ دروازہ کیسے کھلا، اسرافیل کی موت، گداگر، انکی بہت ہی کامیاب نظمیں ہیں۔

محسوس ہوتا ہے کہ غالب کی طرح ن۔ م۔ راشد بھی آج کے نہیں آنے والی کل کے شاعر ہیں۔جس توجہ کے وہ مستحق ہیں آج نہیں تو کل ان کی طرف متوجہ ضرور ہوگی۔

Close