تنقید کے مارکسی دبستان کو دنیائے ادب میں بہت جلد مقبولیت حاصل ہوگئی اور ہر ملک و قوم میں اس کے حامی وہم نوا بڑی تعداد میں پیدا ہوگئے۔ لیکن جس زور و شور سے اس کی حمایت ہوئی اسی شدومد سے اس کی مخالفت بھی کی گئی۔

مارکسی تنقید سے تنقید کا وہ دبستان مراد ہے جو کارل مارکس کے نظریات کا علمبردار ہے اور ادب و شعر کو مار کسی افکار کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔کارل مارکس انیسویں صدی کا ایک جرمن مفکر تھا اس نے اپنی کتاب ‘سرمایہ‘ میں یہ خیال پیش کیا کہ انسان دو طبقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ایک طرف سرمایہ دار ہیں دوسری طرف مزدور۔ایک طبقہ ظالم ہے دوسرا مظلوم۔مزدور محنت کرتا ہے سرمایہ دار اس کی محنت کا پھل کھاتا ہے اور اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کے دولت جمع کرتا ہے۔

١٨٦٧ء میں کارل مارکس نے ایک اعلان نامہ شائع کیا جس میں ساری دنیا کے مزدوروں کو ایک ہونے اور غلامی کی زنجیریں توڑ پھینکنے کی دعوت دی گئی تھی۔اس اعلان نے ساری دنیا میں آگ سی لگا دی۔ محنت کش اپنا حق چھیننے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔مزدوروں کے حق میں انقلاب کا راستہ دکھانے والا پہلا ملک روس تھا۔وہاں ١٩١٧ء میں لینن کی رہنمائی میں مزدور تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔زار کی ظالم حکومت کا خاتمہ ہوا اور حکومت کی باگ دوڑ مزدوروں اور محنت کشوں کے ہاتھ میں آ گئی۔

اس انقلاب نے ساری دنیا کو چونکا دیا، عوام کے حوصلے ایک دم بند ہوگئے۔شاعر و ادیب عام لوگوں کی بنسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ مظلوموں کی حمایت کی جائے تو اس کا مفید نتیجہ نکل سکتا ہے۔اس خیال نے ادب کے مارکسی دبستان کو جنم دیا۔ اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مارکسزم شاعر و ادیب سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔

ادب و فن کو اپنے زمانے کی پیداوار اور اپنے ماحول کا آئینہ کہا جاتا ہے۔فنکار اپنی تخلیق میں صرف وہی پیش نہیں کرتا جو اسکے دل پر گزرتی ہے بلکہ اسے اپنے ارد گرد جو کچھ نظر آتا ہے اسے اپنے فن میں سمو لیتا ہے۔پڑھنے والے جب کسی تحریر کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہاں ان کو اپنے تجربات کا عکس نظر آتا ہے۔اور جس دنیا سے دن رات ان کا سابقہ ہے وہ اس تحریر میں جیتی جاگتی دکھائی دیتی ہے۔مطلب یہ کہ مارکسی ادیب کا موضوع اسکی اپنی ذاتی نجی یعنی انفرادی زندگی نہیں بلکہ سب پڑھنے والوں کی زندگی گویا اجتماعی زندگی ہے۔تنقید کی زبان میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مارکسی تنقید نگار ادب کو اجتماعی زندگی کا ترجمان دیکھنا چاہتا ہے۔

مارکس نقاد ادب سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ عوام کے لئے ہو۔مارکسی نظام میں مرکزی حیثیت محنت کش عوام کو حاصل ہے۔پہلی بات تو یہ کہ وہ عوام کے مسائل کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنائیں۔ملک کے عام لوگ جب ان کی تخلیق کیے ہوئے ادب کا مطالعہ کریں تو اس میں انہیں اپنے حالات و مسائل کا عکس نظر آئے۔دوسری بات یہ کہ ادب میں عام بول چال کی زبان یعنی سہل زبان استعمال کی جائے تاکہ عام لوگوں تک اس کی رسائی ہو۔

بظاہر یہ بات معقول نظر نہیں آتی لیکن تجربے نے اسے سچ ثابت کر دکھایا ہے۔روسی ادیبوں نے عوامی ادب پیدا کرکے اپنے ہم وطنوں کی ذہنی تربیت کی اور ان میں ادب کا ایسا ذوق پیدا کر دیا کے آج روس میں شیکسپیئر کا مطالعہ کرنے والے انگلستان سے کہیں زیادہ ہیں۔

مارکسی نقاد داخلیت، اور ابہام کو اس لیے نا پسند کرتا ہے کہ یہ چیزیں عوام سے ادیب کا رشتہ منقطع کردیتی ہیں۔اس کے نزدیک وہی ادب ادب ہے جو عوام کے جذبات کا ترجمان ہو اور انہی کی زبان میں گفتگو کرتا ہو۔

لیکن آج اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تمثیل، رمز اور استعارے کے بغیر پر اثر شاعری وجود میں نہیں آسکتی۔جو شاعری بلاواسطہ ہو اور ان سے عاری ہو وہ شاعری نہیں نعرے بازی ہوگی اور مارکسی تحریک کے زیر اثر وجود میں آنے والی بیشتر شاعری کا یہی حال ہوا۔

مارکسی نقاد ادب کو ایک آلہ کار اور محنت کش عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ خیال کرتے ہیں۔١٩٣٢ء میں خار کاف کے مقام پر اشتراکیوں کی ایک کانفرنس ہوئی تھی۔اس میں واضح طور پر اعلان کیا گیا تھا کہ ادب ایک آلہ کار اور جماعت کا ترجمان ہے جس کا مقصد ہمارے مقاصد کی اشاعت کرنا اور تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ادب کا کوئی مقصد ہونا چاہیے یہ بات افلاطون کے زمانے سے لے کر آج تک کہی جاتی رہی ہے۔لیکن مقصدیت پر جتنا زور مارکسی دبستان ادب نے دیا اس کی مثال کسی اور دبستان میں نہیں ملتی۔اس شدت نے ادب کو نقصان پہنچایا۔

یہ بھی ہوا کہ بعض مارکسی ادیبوں نے اجتماعی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا اور انفرادی زندگی کو نظرانداز کردیا۔یہ انداز نظر بجا طور پر سخت تنقید کا نشانہ بنا۔دراصل ادیب اور فنکار کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد و ماحول سے کنارہ کر لے اور نہ یہ ہوسکتا ہے کے اس کی شخصی اور نجی زندگی کی پرچھائیاں اس کی تخلیقات پر نہ پڑے۔دونوں آپس میں اس طرح گتھے ہوئے ہیں کہ انہیں علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے خیالات بیرونی حالات و واقعات سے بہرحال بندھے رہتے ہیں۔چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے ہمارا ذہن اس کا اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔گویا سماجی محرکات اپنی جگہ اہم ہیں اور شاعر کی شخصی و نجی زندگی کی اپنی اہمیت ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ مارکسی تنقید اجتماعی زندگی اور سماجی محرکات کو اہمیت دینے کے باوجود ادیب کی انفرادیت کو نظرانداز نہیں کرتی۔اختر حسین رائے پوری نے لکھا ہے:

"ادیب اپنے ماحول سے کچھ لیتا ہے اور اس قرض کو اپنی شخصیت کے سود کے ساتھ واپس کردیتاہے”

مارکسی تنقید ادیب و فنکار سے جانبداری کی توقع کرتی ہے۔جس دنیا میں ظلم اور زیادتی ہورہی ہو وہاں غیر جانبداری کس طرح ممکن ہے۔فنکار تو بہت حساس ہوتا ہے اس کے غیر جانبدار رہنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے فنکار کھلی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہے، اس پر غور کرتا ہے اور آخرکار ظالم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت میں اپنے فن کو استعمال کرتا ہے۔لیکن اس جانب داری کے نتیجے میں کبھی کبھی فن محض پروپیگنڈہ بن کے رہ جاتا ہے فن نہیں رہتا۔ادب اور فن کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ادب اور فن رہے۔مراد یہ کہ جانبداری سے ادب و فن کو مجروح نہیں ہونا چاہیے۔

آخر میں کارل مارکس کے اس بیان پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں:

"انسان کے خیالات اور جذبات اس کے تمام مساعی ایک مخصوص دور کے ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں اور جو مادی اسباب کسی ایک ماحول کی تشکیل کرتے ہیں ان میں طریقہ پیداوار لکڑی یا پیداوار کی غرض سے اقتصادی تنظیم سب سے زیادہ اہم ہیں”

Close