مجنوں گور کھپوری کا شمار ان بزرگوں میں سے ہے جنہوں نے اردو تنقید کی بنیاد کو مستحکم کیا۔شروع میں وہ تاثراتی تنقید نگار تھے لیکن ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔انہوں نے علمائے شرق و غرب سے بھرپور استفادہ کیا تھا۔غوروفکر ان کی عادت تھی۔مطالعہ کی وسعت اور غور و فکر کی عادت نے انہیں راستہ دکھایا اور ان کی تنقید مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتی گئی۔عہد، ماحول اور اقتصادی نظام کی ادب میں جو کارفرمائی ہے اس کے وہ آہستہ آہستہ قائل ہوتے گئے۔مارکسزم سے وہ متاثر ہوئے لیکن ادب کی جمالیاتی قدروں کو نظر انداز نہ کر سکے۔

تاثراتی تنقید کی کمزوری یہ ہے کہ وحشی خوبیوں کا سائنٹیفیک تجزیہ نہیں کر پاتی اور یہ واضح کرنے میں ناکام رہتی ہے کے کوئی شعر دلکش اور پر اثر ہے تو اس کے اسباب کیا ہیں۔تاثراتی تنقید کی اس خامی کو فنون لطیفہ کی خصوصیت قرار دیتے ہوئے مجنوں گورکھپوری ‘تنقیدی حاشیے’ میں لکھتے ہیں:

"فنون لطیفہ اور بالخصوص شاعری، موسیقی اور مصوری کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ ان کے اثرات کا تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔اور شاعری تو کبھی اپنے راز کو پوری طرح افشا نہیں ہونے دیتی۔ہم لاکھ تجزیہ کرین، لاکھ نقطے نکالیں پھر بھی ہم واضح طور پر نہ خود جانتے ہیں نہ دوسروں کو بتا سکتے ہیں کہ فلاں شعر ہم کو کیوں اچھا معلوم ہوتا ہے”

مجنوں گورکھپوری کے ابتدائی دور کے تنقیدی مضامین میں مختلف شاعروں کے کلام کی تعریف خوب ملتی ہے مگر اس تعریف کو مضبوط بنیاد کہیں نہیں مل پاتی۔آسی کا ہر شعر انہیں ایک وجد معلوم ہوتا ہے لیکن کیوں؟اس کا جواب کہیں نہیں ملتا۔کلام مصحفی میں انہیں حسن قاری کی ایک خاص بصیرت نظر آتی ہے۔مگر اس بصیرت کی وضاحت نہیں کی جاتی۔میر کے بارے میں لکھتے ہیں:

"اردو شاعری بھی اپنا خدا رکھتی ہے اور وہ میر کہلاتا ہے۔تذکرہ نویسوں نے اس کی درگاہ میں اپنی حمدوثناء پیش کی ہے۔شارع نے اس کے آگے سر بندگی جھکایا ہے۔ کوئی تذکرہ نویس یا کوئی شاعر ایسا نہیں ملے گا جس نے میر کے خدائےسخن ہونے سے انکار کیا ہو”

مجنوں کی تنقید کے جو نمونے پیش کیے گئے ہیں وہ اس زمانے کے ہیں جب وہ تنقید کی دنیا میں نووارد تھے۔اس وقت اردو میں نیاز کی تنقید بہت مقبول تھی اور مجنون ان سے بہت متاثر تھے۔اس دور کے مضامین ‘تنقیدی حاشیے‘ اور ‘نقوش و افکار‘ میں شامل ہیں۔ان تمام مضامین کی نوعیت تاثراتی تنقید کی ہے۔لیکن مجنوں گورکھپوری اس مقام پر ٹھہر کے نہیں رہ گئے۔جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا ہے ان کا مطالعہ وسیع تھا اور غوروفکر ان کی عادت تھی۔اس زمانے میں جو حالات ملک اور ملک سے باہر پیش آرہے تھے انہیں وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے تھے اور انکا اثر بھی قبول کر رہے تھے۔

مجنوں گورکھپوری کے عہد کو جس چیز نے سب سے زیادہ متاثرکیاوہ ١٩١٧ء کا انقلاب روس تھا۔اس انقلاب نے ادیبوں کے سوچنے کا انداز بدل ڈالا اور یہ احساس عام ہوا کہ اس دنیا میں جہاں ایک طرف ظالم اور دوسری طرف مظلوم ہیں،ادیب غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔اس کا فرض ہے کہ محنت کش یعنی کسان اور مزدور طبقہ کا ساتھ دے اور جو لوگ ان پر ظلم کر رہے ہیں اور ان کی محنت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یعنی سرمایہ داران کے خلاف جنگ کے لیے کمر بستہ ہو جائے۔

ان خیالات نے جن ادیبوں کے دلوں میں گھر کیا ان میں سے ایک مجنوں گورکھپوری بھی تھے۔ان کا نقطہ نظر بالکل تبدیل ہوگیا اور وہ تاثراتی تنقید کی دلدل سے باہر نکل آئے۔اب وہ سائنٹفک تنقید کی طرف مائل ہوئے اور ترقی پسندوں کے ہمنوا ہو گئے۔انہیں ادب اور زندگی کے باہمی تعلق کا پوری طرح احساس ہوگیا۔انہوں نے اپنے تنقیدی مضامین کے نئے مجموعے کا نام ہی "ادب اور زندگی” رکھا۔انہوں نے صاف لفظوں میں اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ آج کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ روٹی، روزی کا ہے۔

اس سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔دولت کی نا برابر تقسیم نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی حالت ابتر کردی ہے۔ادیڈ کوئی راہی یا جوگی نہیں۔ادب ترک یا تپسیا کی پیداوار نہیں۔ادیب بھی ہمارے سماج کا ایک فرد ہے وہ بھی ہماری معاشی اور سماجی زندگی سے اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح اور لوگ ہوتے ہیں۔

آخرکار مجنوں گورکھپوری نے ادب اور ادیب کی سماجی اہمیت کا اعتراف کیا اور فرمایا کہ کوئی ادب اپنے زمانے کے حالات سے بیگانہ رہ ہی نہیں سکتا۔وہ عصر ادب میں بہر حال جلوہ گر ہوتی ہے۔وہ ادب جو روح عصر سے محروم ہو مردہ و ناکارہ ہے۔انگریزی نقاد میتھیو آرلینڈ ادب کو تنقید حیات کہتے تھے۔مجنوں نے ان سے اتفاق کیا اور ان کی رائے کو سراہا ہے۔

ظاہر ہے مجنوں نے تنقید میں جو راستہ اختیار کیا وہ مارکسزم یعنی اشتراکیت تک پہنچتا تھا اور مجنوں وہاں تک پہنچے اور کچھ دنوں ان کے یہاں شدت بھی رہی۔روسی ادب کو وہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے رہے۔ روس میں”ریپ” نام کا ایک سرکاری محکمہ قائم تھا۔اس کا کام ادب کو سنسر کرنا تھا۔شائع ہونے سے پہلے یہ ہر تصنیف کا پوسٹ ماٹم کرتا تھا۔کسی کتاب کو وہ کمیونسٹ پارٹی کیلئے مفید نہ پاتا تو اس کی اشاعت ممکن نہ تھی۔

پارٹی کے خلاف کسی کتاب کے شائع ہونے کا تو سوال پیدا ہی نہ ہوتا تھا۔یہ محکمہ آخر کار بند کردیا گیا۔مجنوں گورکھ پوری کو اس کے بند ہونے کا زیادہ ملال نہ ہوا لیکن یہ بات انہیں پسند نہیں آئی کہ روس میں یہ پابندی بھی اٹھ گئی کہ کیا پڑھو اور کیا نا پڑھو۔اسی طرح ادیبوں کو اظہار خیال کی جو آزادی ملی وہ بھی مجنوں کو اچھی نہیں لگی۔

ترقی پسند تحریک کے زیر اثر مجنوں گورکھپوری نے یہ بھی کہا کہ کسی ادب پارے کی فنی باریکیاں اتنی اہم نہیں جتنا کہ مواد۔اور یہ کہ مواد کو زیادہ نہیں تو ہئیت کے برابر اہمیت ضروری دی جانی چاہیے۔لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ ترقی پسند ادیب پارٹی کے مقاصد کے سوا باقی سب کچھ نظر انداز کررہے ہیں۔مقصدیت کے آگے ادب کے تقاضے ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اس تحریک کے اثر سے ادب پراپیگنڈہ بنتا جا رہا ہے۔تو ان کے خیالات نے ایک بار پھر کروٹ لی اور اس رویے کےخلاف احتجاج کیا۔

شعر و ادب کے رچے ہوئے ذوق اور وسیع مطالعے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ جمالیاتی قدروں سے عاری ادب،اب کہلانے کا مستحق بھی ہے یا نہیں۔انہیں یاد آیا اور درست یاد آیا کہ مارکس ادب کی تفریحی اہمیت کا قائل تھا اور فرصت کے اوقات ادب کے مطالعے میں صرف کرتا تھا۔لینن کا خیال تھا کہ تھکے ہوئے دماغ کے لیے ادب سے بہتر تفریح کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ٹراٹسکی ادب کی افادیت کو مضر خیال کرتا تھا۔مجنوں کو اس حقیقت کا بھی احساس ہوا کہ فنکار کی انفرادیت کو کسی طرح کچلا نہیں جاسکتا۔اور انہوں نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ”زندگی کے اقتصادی پہلو پر مارکس نے جو زور دیا تھا وہ خالص عصری چیز ہے”گویا ایک وقتی ضرورت تھی جو ہمیشہ باقی نہیں رہ سکتی۔

چناچہ ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مجنوں کی تنقید نے ارتقاء کے مختلف منزلیں طے کیں۔ان کی تنقید کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا دور وہ ہے جب انہوں نے نیاز کے انداز میں اپنے خیالات پیش کیے۔یہ تاثراتی تنقید کا دور ہے۔ اس زمانے میں وہ اسے کافی خیال کرتے تھے کہ کسی فن پارے کے مطالعے سے ان کے دل پر جو کیفیت گزرتی ہے اس کا اظہار کر دیں۔

ظاہر ہے یہ ان کی ادبی زندگی کا عبوری اور تعمیر دور تھا جو زیادہ عرصہ باقی نہ رہا۔پھر جب دنیا بھرکے ادیبوں پر اشتراکیت کا جادو چلنا شروع ہوا تو مجنوں گورکھپوری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے۔اس وابستگی نے شدت اختیار کی اور وہ پارٹی کا پرچم بلند کرنے ہی کو ایک احساس اور باضمیر ادیب کا فرض خیال کرنے لگے۔اس زمانے میں وہ کمیونسٹ پارٹی اور ترقی پسند تحریک کے ہر قدم کو حق بجانب سمجھتے تھے وہ اس کی حمایت کرتے تھے۔

آخر کا مجنوں کے ادبی ذوق میں ان کی رہنمائی کی اور انھیں شدت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ مزدوروں اور کسانوں کی حمایت کے جوش میں ترقی پسند ادیب اور شاعر ادبی قدروں کو نظرانداز کررہے ہیں اور ان کے ہاتھوں ادب صرف پروپگنڈہ بن کے رہ گیا ہے۔

جب یہ بات ان پر پوری طرح روشن ہوگی کہ"اشتراکی اپنے سپاہیوں کی طرح ادیبوں شاعروں کو بھی سرخ وردی پہنا دینا چاہتے ہیں”تو انہوں نے اسے گمراہی قرار دیا اور اس کے خلاف آواز اٹھائی۔انہوں نے بار بار کہا کے ادب کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ادب کے تقاضوں کو پورا کرے۔مجنوں کی تنقید کا یہ دور سب سے کامیاب دور ہے اور اس زمانے میں انہوں نے جو تنقیدی مضامین لکھے انہیں سائنٹفک تنقید کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے۔مجنوں کی تنقید کا یہی وہ عہد ہے جو اردو تنقید میں انکی بقاۓ دوام کا ضامن ہے۔

Close