(١) پہلا بند

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا

(٢) دوسرا بند

پیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئی
بولے سیّارے سرِعرشِ بریں ہے کوئی

چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی

کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

(٣) تیسرا بند

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا

تا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا
آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا

غافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیں
شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں

(٤) چوتھا بند

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہے

عالم کیف ہے دانائے رموز کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے

ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

(٥) پانچواں بند

آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ تیرا
اشک بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ تیرا

آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تیرا

شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نے
ہم سخن کردیا بندوں کو خدا سے تو نے

(٦) چھٹا بند

ہم تو مائل با کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے! رہرو منزل ہی نہیں

تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں

کوئی قابل ہو تو ہم شان نئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والے کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

(٧) ساتواں بند

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں

بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا ابراہیم پدر اور پسر آذر ہیں

بادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئے
حرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے

(٨) آٹھواں بند

وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھا
نازش موسم گل لالہ صحرائی تھا

جو مسلمان تھا االلہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمھارا یہی ہرجائی تھا

کیسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لو
ملت احمد مرسل کو مقامی کرلو

(٩) نواں بند

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

طبع آزاد پہ قید رمضان بھاری ہے
تمہیں کہہ دو کہ یہ آئین و فاداری ہے

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں

(١٠) دسواں بند

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو

بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو

ہونکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے

(١١) گیارہواں بند

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے
نوع انسان کوغلامی سے چھڑایا کس نے

میرے کعبہ کو جبینوں سے بسایا کس نے
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

(١٢) بارہواں بند

کیا کہا؟ بہر مسلمان ہے فقط وعدۂ حور
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور
مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوہ طور تو موجود ہے موسی ہی نہیں

(١٣) تیرہواں بند

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی اللہ بھی قران بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

(١٤) چودہواں بند

کون ہے تارک آئینِ رسولِ مختار
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار
ہوگئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدﷺ کا تمھیں پاس نہیں

(١٥) پندرہواں بند

جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریب
زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریب

نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریب

امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سے

(١٦) سولہواں بند

واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے

(١٧) سترہواں بند

شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلمان نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

(١٨) اٹھارواں بند

دم تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک
عدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاک

شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک

خود گزاری نمے کیفیت صہبایش بود
خالی از خویش شدن صورت مینایش بود

(١٩) انیسواں بند

ہر مسلمان رگ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینہء ہستی میں عمل جوہر تھا

جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھا

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو

(٢٠) بیسواں بند

ہر کوئی مست مۓ ذوقِ تن آسانی
تم مسلمان ہو؟ یہ انداز مسلمانی ہے؟

حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

(٢١) اکیسواں بند

تم ہو آپس میں غضبناک وہ آپس میں رحیم
تم خطاکار و خطابیں وہ خطا پوش و کریم

چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم

تخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھی
یوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی

(٢٢) بائیسواں بند

خود کشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددار
تم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثار

تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بہ کنار

اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی

(٢٣) 23واں بند

مثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئے
بت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے

شوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئے
بے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئے

ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا
لا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا

(٢٤) 24واں بند

قیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہے
شہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیما نہ رہے

وہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہے
یہ ضروری ہے حجاب رخ لیلیٰ نہ رہے

گلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہو
عشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہو

(٢٥) پچیسواں بند

عہد نو برق ہے آتش زنِ ہرخرمن ہے
ایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے

اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے
ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے

آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

(٢٦) چھبیسواں بند

دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالی
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی

خش و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی
گل بر انداز ہے خون شہداء کی لالی

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

(٢٧) 27 واں بند

امتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیں
اور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیں

سینکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیں
سینکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں

نخل اسلام نمونہ ہے برومندی کا
پھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا

(٢٨) اٹھائیسواں بند

پاک ہے گرد وطن سے سرِ داماں تیرا
تو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا

قافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیرا
غیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرا

نخل شمع استی دور شعلہ دود ریشہ تو
عاقبت سوز بود سایۂ اندیشہ تو

(٢٩) انتیسواں بند

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

کشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہے
عصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہے

(٣٠) تیسواں بند

ہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کا
غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا

تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا
امتحاں ہے ترے ایثار کا خود داری کا

کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سے
نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے

(٣١) اکتیسواں بند

چشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری
ہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیری

زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری
کوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیری

وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

(٣٢) بتیسواں بند

مثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہوجا
رخت بردوش ہوائے چمنستاں ہوجا

ہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جا
نغمۂ موج سے ہنگامۂ طوفاں ہوجا

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدﷺ سے اجالا کر دے

(٣٣) تینتیسواں بند

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

نہ یہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

(٣٤) 34واں بند

دشت میں دامنِ کہسار میں میدان میں ہے
بحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہے

چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے
اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعت شان ورفعنا لک ذکرک دیکھے

(٣٥) پینتیسواں بند

مردم چشم زمین یعنی وہ کالی دنیا
وہ تمہارے شہداء پالنے والی دنیا

گرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیا
عشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا

تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرح
غوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح

(٣٦) چھتیسواں بند

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
میرے درویش! خلافت ہے جہانگیر تری

ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلمان ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں


Close