اقبال نے یہ نظم 1913ء میں لکھی تھی اور موچی دروازہ لاہور کے باہر اس جلسہ میں سنائی تھی جو حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب کے زیراہتمام جنگ بلقان کے سلسلہ میں منعقد ہوا تھا تاکہ ترکوں کے لیے چندہ جمع کیا جائے۔نظم کے اختتام نظم کے اختتام پر اس کی ہزاروں کاپیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئیں اور وہ تمام رقم بلقان فنڈ میں دے دی گئی۔نظم شکوہ کی طرح یہ نظم بھی اقبال کی اردو شاعری کے نادر ترین نمونوں میں سے ہے۔ذیل میں اس کے ہر ایک بند کی تشریح مختصراً پیش کی جاتی ہے۔

(١) پہلا بند:

میں نے اللہ کی جناب میں شکوہ کیا تھا کیونکہ وہ میرے دل کی گہرائیوں سے نکلا تھا اس لئے اس میں بڑی تاثیر پوشیدہ تھی،اور اس لیے وہ سب آسمانوں سے گزرتا ہوا عالم ملوک میں پہنچ گیا جہاں فرشتے رہتے ہیں۔

(٢) دوسرا بند:

فرشتے، سیارے، ستارے، چاند، کہکشاں سب حیران ہو گے کہ یہ کون ہے؟ لیکن نہ کر سکے،ہبں رضوان سمجھ گیا کہ یہ وہی ہے جسے کچھ عرصہ ہوا جنت سے نکالا گیا تھا۔

(٣) تیسرا بند:

فرشتے اس شکوہ کے انداز بیان سے بہت حیران تھے اور اس میں جو گستاخی اور شوخی کا رنگ پایا جاتا ہے اس پر بہت ناراض تھے۔ چنانچہ وہ کہنے لگے کہ یہ زمین کے لوگ بھی کتنے گستاخ اور سرکش ہوتے ہیں۔

(٤) چوتھا بند:

حضرت انسان کی گستاخی تو دیکھو کہ اللہ سے بھی ناراض ہے! کیا یہ وہی آدمی جس پر خدا نے اس قدر انعام فرمایا کہ ہمیں سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا؟ اگر یہ وہی ہے تب تو واقعی بڑا ناشکرا ہے یوں تو منطق اور فلسفہ دونوں میں طاق ہے لیکن بات کرنے کے سلیقہ سے محروم ہے۔

(٥) پانچواں بند:

فرشتے یہ گفتگو اور تبصرہ کر ہی رہے تھے کہ عرش سے آواز آئی کہ انسان بے شک تیرا فسانہ بہت درد خیز ہے اور تیرا دل غموں سے چور ہے تو نے اپنے حسن بیان کی بدولت شکوہ کو شکر کے لباس میں پیش کیا ہے اور اس طرح بندوں کو خدا سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہو گیا۔

(٦) چھٹا بند:

اے انسان! تو نے شکر کے رنگ میں جو شکوہ ہم سے کیا اب اس کا جواب سن! ہم تو ہر وقت کرم کرنے کے لئے آمادہ ہیں، لیکن کوئی سائل بھی تو ہو۔ ہم سب کی تربیت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن جو شخص تربیت اور اصلاح قبول ہی نہ کرے تو ہم کیا کریں۔ اگر کوئی شخص بادشاہت کی قابلیت رکھتا ہے تو ہم ضرور اسے بادشاہ بنا دیتے ہیں۔

(٧) ساتواں بند:

لیکن اے مسلمانو! تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تم دل میں ہمارے منکر ہو چکے ہو اور ہمارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات سے بالکل برگشتہ ہو چکے ہو۔ تم میں جو لوگ بت شکن تھے وہ تو رخصت ہوگئے آپ جو باقی ہیں بت پرست ہیں۔ شریعت اسلامیہ پر قائم نہیں ہو بلکہ تمہارا کعبہ بھی مختلف ہے، تمہارے بت مثلاً دولت، عہدے،خطابات،جاگیریں بھی نئے ہیں اور تم خود بھی نئے ہو اور قبر کی پرستی میں لگ گئے ہو۔

(٨) آٹھواں بند:

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب ہر مسلمان اللہ کا عاشق تھا اور وہ لوگ اسی کو پوجتے تھے اسی سے محبت کرتے تھے۔جسے آج تم ‘ہرجائی’ کہہ رہے ہو۔ دیکھو شکوہ بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے۔ اچھی بات ہے اگر ہم ہرجائی ہیں تو تم کسی یکجائی کو اپنا خدا بنا لو،اسے عہد وفا باندھ لو، اس کی صورت یہ ہے کہ ہم نے تو ملت محمدیہ کو آفاق گیر بنا بنایا تھا یعنی جاپان سے مراکش تک سب مسلمان ایک قوم ہیں لیکن تم سب اپنے آپ کو مقامی کرلو یعنی کس ملک یا کسی نسل سے وابستہ کر لو۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کر لو تاکہ کافروں کی طرح تم پر بھی فضل الہی نازل ہونے لگے۔

واضح ہو کہ یہ طنزیہ شاعری کی بہترین مثال ہے۔ اقبال نے درپردہ ہمیں یہ تلقین کی ہے کہ جب تک ہم ساری دنیا کے مسلمان عقیدۂ وحدت عملی پر عمل نہیں کریں گے یعنی ایک قوم نہیں بن جائیں گے تو اس وقت تک سربلندی حاصل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ تمام کافر اقوام ہمارے مقابلہ میں ملت واحدہ بنی ہوئی ہیں۔

(٩) نواں بند:

اے مسلمانو! تمہاری حالت یہ ہے کہ تم ہماری عبادت پر خواب شریں کو ترجیح دیتے ہو، اور رمضان کے روزوں کو ایک مصیبت سمجھتے ہو۔ کیا یہی وفاداری کا طریقہ ہے؟ قوم تو مذہب سے بنتی ہے جب تم نے مذہب چھوڑ دیا تو قوم کس طرح زندہ رہ سکتی ہے؟ مثالا یوں سمجھو کہ اگر ستاروں میں جزب باہمی باقی نہ رہے تو کیا کوئی ستارہ اپنی جگہ پر قائم رہ سکتا ہے؟

( ١٠) دسواں بند:

تم لوگ نہ کوئی فن جانتے ہو نہ کوئی ہنر، نہ کوئی شے ایجاد کرتے ہو نہ کوئی علمی تحقیق، تمہیں اپنے اسلاف کی عزت کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ ان کی قبروں کو بیچ کر کھا رہے ہو، اور خدا کو چھوڑ صاحب قبر سے استعانت چاہتے ہو ان کی کفن تک بیچ کھاتے ہو۔ جب تم قبر فروشی کر سکتے ہو تو بت فروشی میں تمہیں کیا تأمل ہو سکتا ہے؟

(١١) گیارہواں بند:

بے شک مسلمانوں نے دنیا سے ہر شرک و کفر کو مٹایا اور انسانوں کو آزادی عطا کی، اور خدا کی اطاعت کی۔ خانہ کعبہ کی حفاظت کی، اور قرآن مجید کی اشاعت کی۔ لیکن یہ کام تو تمہارے بزرگوں نے کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ تم نے اسلام کی خاطر کیا کیا۔؟

(١٢) بارہواں بند:

تم یہ شکایت کرتے ہو کہ مسلمان کے لئے صرف وعدۂ حور ہے حالانکہ یہ شکایت بلکل ناروا ہے۔ خدا تو ہمیشہ عادل رہا ہے۔کافروں کو دنیا کی نعمتیں اس لئے ملیں کہ انہوں نے اسلام کے اصول اختیار کرلیے۔ حق تو یہ ہے کہ تم میں کوئی مسلمان حوروں کا آرزومند ہی نہیں ہم تو آج بھی رحمت نازل کرنے کے لئے آمادہ ہیں لیکن کوئی ہمارے فضل و کرم کا مستحق ہی نہیں۔

(١٣) تیرہواں بند:

مسلمانوں کا دین ایک ہے، اللہ ایک ہے، رسول ایک ہے، خانہ کعبہ ایک ہے، قرآن مجید بھی ایک ہے، اندریں حالات اگر سارے مسلمان بھی ایک ہو جاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔؟ اس کے برعکس تمہارا حال یہ ہے کہ تم مختلف فرقوں اور ذاتوں اور قبیلوں میں منقسم ہو گئے ہو کیا دنیا میں ترقی کرنے کی یہی صورت ہے؟

(١٤) چودھواں بند:

تم شریعت اسلامیہ کے منکر ہو، تمہارا دین صرف مصلحت وقت ہے کہ جس بات میں نفع نظر آئے اسے اختیار کرلینا چاہیے۔ تم کافروں کی رسوم اور طرزِ معاشرت کو پسند کرتے ہو اور اپنے بزرگوں کے طریقوں سے بیزار ہو۔ نہ تمہارے دل میں اسلام کی محبت ہے اور نہ ہمارے رسول کے ارشاد سے کوئی سروکار ہے۔

(١٥) پندرہواں بند:

حالت یہ ہے کہ آج اگر مساجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں تو غریب، روزہ رکھتے ہیں تو غریب، ہمارا نام لیتے ہیں تو غریب۔ گویا تمہارا پردہ رکھتے ہیں تو غریب، دولت مند تو اپنی دولت کے نشہ میں ہم سے بالکل غافل ہیں۔ آج اگر اسلام زندہ ہے تو انہیں غریب مسلمانوں کے دم سے زندہ ہے۔

(١٦) سولہواں بند:

نہ مسلمان واعظین کے وعظ میں کوئی اثر باقی ہے اور نہ انکے دل میں اسلام کی کوئی محبت ہے۔ اذان تو اب بھی ہوتی ہے لیکن اس میں نہ کوئی خلوص ہے نہ اسلام کی محبت کا رنگ ہے۔ مسلمان منطق و فلسفہ تو پڑھتے ہیں لیکن ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتے یہی وجہ ہے کے آج مسجدیں ویران پڑی ہوئی ہیں۔

(١٧) سترہواں بند:

ایک شور مچا ہوا ہے کہ مسلمان مٹے جا رہے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ مسلمان ہیں کہاں جو ان کے مٹنے کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی وضع قطع کے لحاظ سے عیسائی معلوم ہوتے ہیں اور وہ تمدن کے اعتبار سے ہندو نظر آتے ہیں اور معاملات کے اعتبار سے یہود سے بدتر ہیں۔ خاندانی لحاظ سے تم میں کوئی سید ہے، کوئی مرزا ہے، کوئی افغان ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کوئی مسلمان بھی ہے؟

(١٨) اٹھارہواں بند:

اگلے زمانے کے مسلمانوں کی کیفیت تو یہ تھی کہ وہ سچ بولنے سے بالکل نہیں ڈرتے تھے۔ وہ ہر شخص سے انصاف کرتے تھے۔ مسلمان اللہ کے عشق میں سرشار تھے اس لئے اس کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرتے تھے اور دوسروں کی جان بچانے کے لئے اپنی زندگی بخوشی نثار کردیتے تھے۔

(١٩) انیسواں بند:

ہر مسلمان ہر وقت کفر و شرک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا تھا اور سرگرم عمل تھا۔ ان کو ہم پر اور اس کے بعد اپنی قوتِ بازو پر بھروسہ تھا۔ تم ہو کہ موت سے ڈرتے ہو لیکن وہ ہم سے ڈرتا تھا۔ اگر تمہارے اندر تمہارے بزرگوں کی صفات نہیں ہیں تو تم کو وہ مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے جو ان بزرگوں کو حاصل تھا۔؟

(٢٠) بیسواں بند:

تم میں سے ہر مسلمان آرام طلب ہے۔ نہ کسی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سی شان فکر پائی جاتی ہے نہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی سی دولت نظر آتی ہے۔ اور اگر تم دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے ہو تو اس لئے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔

(٢١) اکیسواں بند:

تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو لیکن تمہارے بزرگ آپس میں ایک دوسرے پر مہربان تھے۔ تم دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہو اور وہ دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتے تھے۔ تم ان کی طرح سربلندی کے خواہشمند تو ضرور ہو لیکن کیا تمہارے دلوں میں اسلام کی ویسی ہی الفت ہے جیسی ان کے دلوں میں تھی؟

(٢٢) بائیسواں بند:

تم اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہ کررہے ہو لیکن تمہارے اسلاف غیرت مند اور خوددار تھے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور وہ ایک دوسرے پر جان فدا کرتے تھے۔ تم صرف باتیں بنانی جانتے ہو لیکن وہ عمل کرتے تھے۔تم آج دولت کے لیے ترس رہے ہو لیکن دولت ان کے پاؤں چومتی تھی۔ آج بھی تاریخ ان کے کارناموں پر فخر کرتی ہے۔

(٢٣) تئیسواں بند:

تمہاری حالت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں سروری دی لیکن تم نے اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلیا اور رسول کو چھوڑ کر بتوں سے محبت کرنی شروع کردی۔ دنیاوی ترقی کی دوڑ میں اپنی ملی روایات سے بیگانہ ہو گئے۔ بے عمل تو تھے ہی دین سے بھی کنارہ کشی کر لیا۔ آج قوم کی یہ حالت ہے قیود سے بالکل آزاد ہو چکی ہے اور مسجدوں کے بجائے ہوٹل اور کلب آباد کر رہی ہے۔

(٢٤) چوبیسواں بند:

مسلمان نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے سینے عشق رسولﷺ سے خالی ہو چکے ہیں اور مسلمان لڑکیاں پردہ سے بے نیاز ہوتی جاتی ہیں۔ نوجوان یہ کہتے ہیں کہ جب عاشق آزاد ہے تو معشوق کیوں پردہ میں رہے؟

(٢٥) پچیسواں بند:

یہ موجودہ زمانہ جس میں مادیت برسر عروج ہے تمام قوموں کے لئے یکساں تباہی کا موجب ہے۔ یہ وہ آگ ہے جس میں ملت اسلامیہ تیزی کے ساتھ فنا ہوتی جارہی ہے۔ لیکن اگر آج بھی مسلمانوں میں ایمان کا رنگ پیدا ہوجائے تو یہی آگ ان کے حق میں گلزار ابراہیم بن سکتی ہے۔

(٢٦) 26واں بند:

یہاں سے اس نظم کا انداز بدل جاتا ہے اور اقبال قوم کو امید کا مژدہ سناتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کی زبوں حالی سے مسلمانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، مصائب کے بادل عنقریب چھٹنے والے ہیں۔ملت اسلامیہ کی بہتری کے دن قریب آچکے ہیں۔ خون شہدا کی سرخی ہر طرف پھول برسا رہی ہے یعنی مسلمانوں میں زندگی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔

(٢٧) 27 واں بند:

اگرچہ موجودہ مسلمان واقعی آج کل بہت پریشان ہیں لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے جس طرح پہلے زمانہ میں مختلف قوموں نے اسلام لانے کے بعد دین کی خدمت کی ہے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

(٢٨) اٹھائیسواں بند:

اے مسلمانو! اس نقتہ کو ذہن نشین کر لو کہ مسلمان قوم کسی خاص وطن یا نسل سے وابستہ نہیں ہے اور نہ کسی خاص ملک تک محدود ہے کہ اگر وہ ملک تباہ ہوجائے تو قوم تباہ ہو جائے گی۔ یہ ساری دنیا مسلمانوں کا وطن ہے اس لئے اسلام کبھی دنیا سے مٹ نہیں سکتا۔

اے مسلمان تو دنیا کے لیے شمع کی مانند ہے، شمع کے شعلوں میں تیری ہی حرارت کارفرما ہے تو شمع کی بتی کی مانند ہے اگر تو نہ ہو تو شمع جل نہیں سکتی یعنی اگر مسلمان قوم دنیا سے مٹ جائے تو یہ دنیا ہی مٹ جائے گی۔ تیرا اندیشہ عاقبت سوز ہے یعنی نتائج سے بے پرواہ ہے اس لیے تو دنیا میں ضرور کامیاب ہو گا۔

(٢٩) انتیسواں بند:

جب صورت حال یہ ہے کہ تیرا وجود اس دنیا کی بقا کے لئے ضروری ہے تو اطمینان رکھ۔ ایران کے مٹ جانے سے تو نہیں مل سکتا۔نشہ شراب میں ہوتا ہے نہ کہ پیمانے میں۔ اسی طرح مسلمان تو ساری دنیا کے قیام کا باعث ہیں۔ اسلام کا وجود ایران پر منحصر نہیں ہے۔ اگر تجھے تاریخی شہادت درکار ہو تو سلطنت عباسیہ کی تاریخ کا مطالعہ کر۔ کیا بغداد کے تباہ ہو جانے سے اسلام ختم ہوگیا؟ ہرگز نہیں۔ جن ترکوں نے سلطنت عباسیہ کا چراغ گل کیا تھا، وہی ترک مسلمان ہو کر اسلام کے محافظ بن گئے۔تو اسلام کی کشتی کا پاسبان ہے اس لیے موجودہ زمانے کی اقوام بھی تجھ سے ہی روشنی حاصل کریں گی۔

(٣٠) تیسواں بند:

اگر آج( یعنی ١٩١٣-١٤ء کی بات ہے جب) ریاست ہاے بلقان نے ترکی پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ترک ختم ہو جائیں گے یا مسلمان دنیا سے مر جائیں گے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ مشیر ایزدی اس وقت تیرے ایثار اور حوصلہ کا امتحان لینا چاہتی ہے۔ تو دشمنوں کی کثرت سے کیوں خوفزدہ ہے؟ یقین رکھ وہ اسلام کو فنا نہیں کرسکتے۔

(٣١) اکتیسواں بند:

اے مسلمان! دنیا کی وہ قومیں جو تجھے مٹانا چاہتی ہیں اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ ابھی دنیا کو تیرے ضرورت باقی ہے۔یہ دنیا محض تیرے وجود سے قائم ہے دنیا میں اسلام کی حکومت مقدر ہوچکی ہے۔ تقدیر بدل نہیں سکتی ، تو اٹھ اور دنیا کو توحید کا پیغام سنا دے۔

(٣٢) بتیسواں بند:

اے مسلمانو! گھروں سے نکلو اور اسلام کا پیغام لے کر دنیا میں پھیل جاؤ۔ اسلام میں وہ خوبی ہے کہ تمہاری کمزوری طاقت میں اور تماری قلت کثرت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ تم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں فنا ہو جاؤ اور یقین رکھو کہ اس عشق کی بدولت تمہارے اندر یہ طاقت پیدا ہوجائے گی کہ تم دنیا میں سرور دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نام بلند کرو گے۔

(٣٣) تینتیسواں بند:
اے مسلمانو! یاد رکھو کہ اگر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس نہ ہو تو دنیا تیرہ و تار ہو جائے۔ دنیا کی ساری رونق آپ ہی کے دم سے ہے۔ اگر آپ نہ ہوں تو پھر دنیا میں کوئی توحید کا نام لینے والا نہ رہے۔ نہ توحید رہے اور نہ تم باقی رہو۔ بلا شبہ یہ کائنات حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہی کے نام کی برکت سے قائم ہے اور اسلامی ہستی کی نبض میں آپ ہی کی بدولت حرکت اور زندگی نظر آتی ہے۔

(٣٤) چونتیسواں بند:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی جنگلوں، پہاڑوں، میدانوں، شہروں اور گاؤں میں غرضیکہ ہر جگہ لوگوں کی زبان پر ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر ایک مسلمان کے دل میں پوشیدہ ہے اور انشاءاللہ آپ کا نام قیامت تک اسی طرح بلند رہے گا کیونکہ خود اللہ نے واضح فرمایا ہے کہ اے رسولﷺ ہم نے آپ کا نام ساری دنیا میں بلند کر دیا۔

(٣٥) پینتیسواں بند:

مثالا دیکھ لو کہ براعظم افریقہ جہاں سیاہ فام لوگ بستے ہیں جیسے وہاں کے باشندوں کی سیاہ رنگت کی بنا پر چشم زمین کی پتلی سے تعبیر کرسکتے ہیں جس براعظم میں نجاسی وائی ملک حبشہ نے ابتدائی دور کے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی، جہاں شدید گرمی پڑتی ہے جہاں مصر سے مراکش تک سب مسلمان ہی مسلمان آباد ہیں جسے محبان اسلام حضرت بلال کی دنیا بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ حبشی الاصل تھے۔ یہ سرزمین تبلیغ اسلام کی بدولت روز بروز نور اسلام سے منور ہوتی جاتی ہے اور اس تاریک براعظم کے درد انگیز گوشوں میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مساجد کے میناروں سے بلند ہو رہا ہے۔

(٣٦) آخری بند:

آخری بند میں اللہ تعالی مسلمانوں سے یوں خطاب فرماتا ہے کہ اے مسلمان! ہم نے تجھے دونوں خوبیاں عطا کردی ہیں۔ تیرے پاس عشق کی طاقت بھی ہے اور عقل کی دولت بھی ہے۔ تو عشق کو اپنی تلوار بنا لے یعنی ہمارے محبوب کا نام دنیا میں بلند کر اور اس راہ میں جو مشکلات آئیں ان کو اپنی عقل سے دور کر۔ یعنی عقل سے ڈھال کا کام لے۔اگر تو سچے معنوں میں مسلمان ہو جائے، ہمارا مطیع ہو جائے تو پھر تیری تدبیر ہماری مشیت سے ہم آہنگ ہو جائے گی، یعنی ہم تیری آرزو پوری کریں گے اور اگر تو ہمارے محبوب سے وفا کرے کرے گا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا تو اس دنیا کی حقیقت ہی کیا ہے ہم تجھے ساری کائنات کا مالک بنا دیں گے۔

Close