محمد حسن عسکری کئی حیثیتوں کے مالک ہیں مگر سب سے زیادہ ہمیت ان کی تنقید نگاری کو حاصل ہے تاہم ان کی تنقید جتنی توجہ کی مستحق تھی اس سے محرومی رہی۔شاید اس کا سبب ان کا تیکھا طنزآمیز انداز بیان ہے کہ اس کی زد سے کم ہی مصنف بچے ہوں گے۔ایک اور سبب یہ کہ ان کے نقطۂ نظر میں جو تبدیلی آئی اسے لوگوں نے مصلحت اور خودغرضی ٹھہرایا اور ان سے بے نیازی کا رویہ اختیار کر لیا۔

ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا مگر ادب کے سلسلے میں ان کے نظریات مستعار لیے ہوئے نہیں بلکہ ان کے اپنے تھے اور مسلسل غوروفکر کا نتیجہ تھے۔یہ غوروفکر بھی جاری رہا اور مطالعہ بھی اس لئے ان کے خیالات مسلسل تبدیلی سے دوچار رہے۔وہ انگریزی ادب کے معلم تھے بطور خاص انہیں انگریزی ادب کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا مگر وہ اس سے مرعوب نہیں ہوئے۔انھوں نے فرانسیسی زبان بھی سیکھی اور اہم تصانیف تک رسائی حاصل کی۔جس زمانے میں وہ انگریزی اور فرانسیسی ادب کے مطالعے میں منہمک تھے، ان کا نقطۂ نظر یہ تھا:

"ساری انسانیت ہمیشہ سے ایک ھے اور ھمیشہ ایک رہے گی اس لیے مشرق اور مغرب کے درمیان کوئی فرق نہیں۔سائنس نے سارے فرق مٹا دیے ہیں اور انسانیت کو ایک خاندان بنا دیا ہے۔اس لیے مشرق اور مغرب کے فرق پر غور کرنا بے معنی ہے”

شروع میں تو ان کا خیال یہی تھا کہ ساری دنیا کا ادب ایک ہے اور ادب میں ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا نے کا سوال پیدا نہیں ہوتا لیکن آخر کار انہیں مشرقی تہذیب کی فضیلت کا احساس ہو اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کے انگریزی تہذیب کھوکھلی اور انگریزی ادب خامیوں سے پر ہے۔ان کا جھکاؤ فرانسیسی ادب کی طرف ہوتا گیا لیکن ان کا ذہنی سفر یہاں ختم نہیں ہوا اور ان کا دل بتدریج مشرقی طرف کھینچتا گیا۔ آگے چل کر مغرب کے بارے میں انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا:

"جب ہم نے مغربی شعور کو قبول کیا تو واقعی ہم نے ایک قدم آگے بڑھایا تھا مگر یہ شعور خود اپنے ہاتھوں اپنا گلا گھونٹ رہا ہے خود مغرب ایک نئے شعور کے لئے مضطرب ہے۔مغربی ادب کی حالت دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر یہ شعور کوئی فراہم کر سکتا ہے تو چین یا ہندوستان”

پھر یہاں تک کہا کہ:

"اگر ہمیں دنیا کے ادب میں اپنی جگہ بنانی ہے تو دنیا ہم سے وہ مانگے گی جو صرف ایک ہندوستانی دے سکتا ہے”

غرض انہیں مشرقی ادبیات کا افق وسیع تر لگا اور انکے قدم اس طرف بڑھتے گئے۔پھر یہ خیال ان کے دل میں جاگزین ہو گیا اور ایک مفکر کی رائے سے تقویت پا کر انہوں نے اعلان کردیا کہ” اگر مغرب میں کوئی جاندار ادب پیدا ہوا تو وہ انسانوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں نہیں ہوگا بلکہ انسان اور خدا کے باہمی رشتے کے بارے میں ہوگا”اس کے بعد ایک قدم اور بڑھا تو وہ پوری طرح اسلام کی آغوش میں تھے۔

اب انہوں نے سارے مسئلوں کا حل اور سارے سوالوں کا جواب دون لیا تھا۔اس منزل تک پہنچنے میں انہیں رینے گینوں کے افکار سے بہت مدد ملی تھی۔یہ ایک فرانسیسی نومسلم تھے اور اسلامی تعلیم کی اشاعت میں نہایت سرگرم تھے۔

محمد حسن عسکری کے نظام تنقید میں تہذیب کو مرکزیت حاصل ہے۔وہ مشرقی تہذیب کی برتری کے قائل تھے اور ادب میں اس کی کارفرمائی کو بہت اہمیت دیتے تھے۔تہذیب کے علاوہ نفسیات بھی عسکری کی توجہ کا مرکز رہی۔خاص پور پر ابتدائی زمانے میں لیکن ادب کو کسی ایک زاویے سے دیکھنے اور کسی ایک کسوٹی پر پرکھنے کے وہ قائل نہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی عزم کی وکالت نہیں کرتے"نہ دیر کی طرف بلاتے ہیں نہ حرم کی طرف”ادب سے ان کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ادب ہو۔ کہتے ہیں”میں کسی کتاب میں ادبی اور فنی دلچسپی ہی لے سکتا ہوں” اور "اگر شعر کی جمالیاتی حقیقت پر زور دیا جائے تو کچھ بے جا نہ ہوگا اور ادب میں مسائل اور الجھنوں کے علاوہ لفظ بھی ہوتے ہیں–بلکہ لفظ سب سے پہلے ہوتے ہیں”

محمد حسن عسکری نہ محقق ہونے کے دعویدار ہیں نہ ناقد اور نہ وہ اپنے افسانوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔انہیں ناز ہے تو اپنے انداز بیان پر۔ وہ جانتے ہیں کہ بات کہنے کا انہیں ایسا ہنر آتا ہے کہ کوئی ان کے مضمون کو شروع کردے تو آخر تک پڑھنے پر مجبور ہوتا ہے۔وہ معلم بھی رہے تھے۔ شاید خیال کی وضاحت کا فن ان کی تحریروں میں اس راستے سے داخل ہوا۔ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو سیدھے سادے لفظوں میں بیان کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔اس کے باوجود ان کی خواہش یہ رہی کہ کاش انہیں فلابیر جیسا استاد ملا ہوتا جو ان سے بار بار لکھواتا اور ہر بار کاٹ پھینکتا۔

طنز کی آمیزش نے بھی ان کے اسلوب نگارش کو دلچسپ اور قابل توجہ بنا دیا ہے۔اس انداز نے کچھ لوگوں کو خفا کیا تو بہتوں کو محظوظ بھی کیا ہوگا۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اپنی تحریر کی تمام تر زہرناکی کے باوجود انہیں اپنی ذمہ داری کا ہمیشہ احساس رہا اور اس کمزوری کے باوجود انہوں نے تنقید کی طرف سنجیدگی سے توجہ کی گو جملے بازی بھی ہمیشہ ان کا محبوب مشغلہ رہا۔ یہ انداز ملاحظہ ہو:

"ان کی (ترقی پسندوں کی) اصطلاحیں اتنی افادیت آلودہ ہوتی ہیں کہ ان سے تانبے کے زنگ آلودہ پیسوں کی بدبو آتی ہے۔اس لئے میں نے کمیونسٹوں کا اخبار تک پڑھنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ دونی میں تو ننگی تصویروں والا رسالہ آجاتا ہے”

اسی طرح کی ایک اور طنز آمیز عبارت ملاحظہ ہو:

"ایک ایسا ہی مجرب اور خاندانی نسخہ ترقی پسندوں کے پاس بھی ہے۔یہ نسخہ ‘ہوا المارکس’ سے شروع ہوتا ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں: طبقاتی کشمکش،مادی جدلیات،زرعی پیداوار اور اسی قسم کی دوسری کھادیں”

ترقی پسند ادب اور مارکسی نظریات سے بےزاری تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ آخر کار یہ تحریک انتہا پسندی کا شکار ہوگئی اور اسکے ہاتھوں ادب محض پروپیگنڈا بن کے رہ گیا مگر محمد حسن عسکری کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اس کے جواب میں جو تنقید پیش کرتے ہیں وہ سر تا سر تاثراتی ہے۔کلیم الدین احمد جو ہمیشہ مارکسی ادب کے خلاف لکھتے رہے محمد حسن عسکری کی تنقید کے بارے میں یہ رائے دیتے ہیں:

"مارکسی فلسفے کی کاٹ عسکری صاحب کے تاثرات سے نہیں ہوسکتی اور عسکری صاحب کے پاس تاثرات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے”

تاہم اردو تنقید محمد حسن عسکری کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ ان کی دو کتابوں کا مطالعہ ادب کے طالب علم کے لیے مفید ہوگا۔یہ ہیں: انسان اور آدمی، ستارہ اور بادبان۔

Close