پروفیسر گوپی چند نارنگ ہمارے دور کے بلند پایہ نقاد اور ماہر لسانیات ہیں۔ان کے مضامین سے اردو تنقید میں بیش قیمت اضافہ ہوا ہے۔اور ان کی تحریروں نے ہماری تنقید کو نئی جہتوں سے روشناس کیا ہے۔پروفیسر نارنگ نے اپنے کلاسیکی سرمائے کے ساتھ ساتھ جدید ادب کا بھی گہری نظر سے مطالعہ ہے۔

گویا اردو ادب کا پورا ذخیرہ ان کے پیش نظر رہا ہے۔ کیونکہ وہ ادب کو ادب کی نظر سے دیکھتے ہیں،اسے قدیم و جدید اور ترقی پسند و غیر ترقی پسند کے دائروں میں قید کرنے کے قائل نہیں۔وہ ادب کو ایک اکائی مان کر پورے خلوص کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

ان کا یہ دعویٰ بے بنیاد نہیں کہ” میں نے ادب کی روایت کا مطالعہ نہایت سنجیدگی اور محنت کے ساتھ کیا ہے اور آج بھی میری کوشش یہی رہتی ہے کہ میں سب سے زیادہ توجہ مطالعے پر صرف کروں۔”چنانچہ وہ گہرے اور وسیع مطالعے اور ضروری غور و فکر کے بغیر قلم نہیں اٹھاتے،بے دلیل کوئی دعوی نہیں کرتے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کا مطالعہ صرف اردو ادب تک محدود نہیں بلکہ بعض دوسری زبانوں کا ادب بھی ان کے پیشِ نظر رہتا ہے۔

ادب میں نظریے کی اہمیت سے پروفیسر نارنگ کو انکار نہیں لیکن ادیب کا کسی گروہ سے وابستہ ہونا ان کے نزدیک ادب کے لیے مہلک ہے۔کیونکہ ہر نظریے کے ماننے والے اس نظریے کا بت سب بنا لیتے ہیں۔اور مذہبی عقائد ہوں یا سیاسی نظریات آہستہ آہستہ کٹر عقیدے میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔اس لیے نارنگ صاحب کی رائے ہے کہ:

"کسی ایک نظریے کی پابندی سے فکر کی تازہ کارانہ راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ادبی لیبلوں کا سخت مخالف ہوں اور ہر پلیٹ فارم سے اپنے اختلاف کے حق کا تحفظ کرتا ہوں۔میرا ایمان ہے کہ کوئی سچا فنکار تنگ نظر نہیں ہوتا، ہو بھی نہیں سکتا۔وہ سماج کا فرد ہوتے ہوئے بھی اس سماج سے بالاتر یا باہر بھی ہوتا ہے۔یعنی ادب کی سب سے کھری حیثیت آؤٹ سائیڈ کی ہے۔”

وہ ادیب کی مکمل آزادی کے حامی ہیں اور اس کی انفرادیت کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔انہیں اعتراف ہے کہ ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک اہم تحریک تھی اور اس نے ہمارے ادب میں بیش بہا اضافہ کئے مگر اس کی نعرہ بازی اور لیبل سازی نے ادب کو ادب نہیں رہنے دیا۔

جب یہ تحریک ادیب کی آزادی میں سد راہ ہوئی اور اس کی سخت گیری بڑھتی ہی چلی گئی تو آخرکار ادیبوں نے آزادی کا پرچم بلند کر دیا۔اس طرح جدیدیت کی تحریک کا آغاز ہوا۔جن نقادوں نے اس تحریر کو فلسفیانہ اساس فراہم کی ان میں ایک اہم نام پروفیسر گوپی چند نارنگ کا بھی ہے۔

جدیدیت کی تحریک میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے جو تخلیقی صلاحیتوں سے محروم تھے اور مہمل ادب پیدا کر رہے تھے۔جدیدیت کی اس مسخ شدہ شکل کو نارنگ صاحب اور دوسرے اہم نقادوں نے مزموم قرار دیا لیکن اس تحریک سے ان کی ہمدردی برقرار رہی اور یہ اعتماد قائم رہا کہ "جدیدیت اب بھی سرکشی، تازہ زمینوں کی تلاش اور نئی فصلوں کی آمد کی بشارت کا ایسا رحجان ہے جو ہرزمانے میں سچے فنکاروں کے دل کی دھڑکن بننے کی صلاحیت رکھتا ہے”انہوں نے کہا”وہ جدیدیت جسکا میں حامی ہوں بت ہزار شیوہ ہے اور آج کے انسان کے باطنی اور خارجی دونوں تقاضوں کی شہادت سے ملتی ہے”

پروفیسر نارنگ چونکہ سنجیدہ اور ذی علم نقاد ہیں اسلئے وہ فن کاروں اور فن پاروں کو پرکھنے کے لیے تنقید کے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں اور حسب موقع مختلف راستوں سے فن اورفنکار تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ "ادبی تنقید میں جو مدد اسلوبیات سے مل سکتی ہے،کسی دوسرے ضابطۂ علم سے نہیں مل سکتی”دراصل یہ بغاوت ہے اس رحجان کے خلاف جو موجودہ صدی کے نصف اول میں تنقید پر غالب رہا یعنی فن اور ہو سکے تو فنکار کو بھی چھوڑ کر ادھر اُدھر کے تمام مسائل و موضوعات پر گفتگو۔

اس کے برعکس اسلوبیاتی تنقید اپنی توجہ ادب پارے پر مرکوز رکھتی ہے اور اس کی صورتیاتی،سلفی اور معنیاتی پرتوں کو کھولتی اور ان کا تجزیہ کرتی ہے جس سے شعر و ادب کی تفہیم کا راستہ ہموار ہوتا ہے اور بہت سے ایسے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں جن کے لئے تنقید برسوں سے سرگردہ رہی ہے۔یہی طریق تنقید ہے جس سے قطعی طور پر یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ شعر و ادب میں حسن پیدا ہوا تو وہ کس طرح اور وہ دل آویزی سے محروم رہا تو آخر کس لئے۔

بعض ناقدین کو گلا ہے کہ پروفیسر نارنگ جتنا لکھ سکتے تھے، انہوں نے اس سے بہت کم لکھا ہے۔تاہم ان کی تنقید کا دائرہ بہت وسیع ہے۔اس مختصر مضمون میں نہ ان کی تمام کتابوں کا ذکر ممکن ہے اور نہ تمام مضامین کا۔یہاں ان کے چند اہم مضامین کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔افسانوی ادب سے ڈاکٹر نارنگ کو خاص شغف تھا۔

پریم چند، بیدی، انتظار حسین اور سرندرپرکاش پر ان کے مضامین کا مطالعہ ان‌اہم افسانہ نگاروں کے فن کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے ان کے مضمون"اردو میں تجریدی و علامتی افسانہ” کا مطالعہ۔نظیر، غالب اور جوش کے کلام پر تنقید کرتے ہوئے سوانح، تاریخ اور عمرانیات سے مدد لی گئی ہے۔

جدید تر شاعروں میں ساقی،باقی، شہریار اور افتخار عارف کے فن کا انہوں نے اپنے مخصوص زاویے سے جائزہ لیا ہے۔"اسلوبیات انیس” اور "اقبال کی شاعری کا صوتیاتی نظام” ان کے اہم کارنامے ہیں اور ان سے بھی بڑا کارنامہ ہے ان کا طویل مقالہ”اسلوبیات میر”جس کے مطالعے کے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ میر کی عظمت کا راز آخر کیا ہے۔

نجی گفتگو ہو، تقریر ہو یا تحریر ڈاکٹر نارنگ کی نثر سامع یا قاری کے دل کا دامن کھنچے بغیر نہیں رہتی۔ان کی زبان میں سادگی کے ساتھ بے پناہ دلآویزی و دلکشی ہے۔کتنا ہی مشکل موضوع اور کیسا ہی پیچیدہ مسئلہ کیوں نہ ہو وہ اپنے واضح اور روشن انداز بیاں سے اسے سہل اور دلنشیں بنا دیتے ہیں۔

گہری تنقیدی بصیرت، وسیع مطالعہ، ادب کے تازہ ترین رحجانات سے مکمل آگاہی،متعلقہ علوم پر دسترس اور زبان پر کامل قدرت وہ اوصاف ہیں جنہوں نے پروفیسر نارنگ کی تنقید کو وقار عطا کیا ہے۔

Close