دبستان لکھنؤ کی تہذیب و معاشرت دبستان دہلی سے بالکل الگ ہے۔دلی کی معاشی اور اقتصادی حالت بہت خراب تھی۔جب سے اردو پروان چڑھی دہلی ہر قسم کی آفتوں کا نشانہ بنتی رہی یہی وجہ ہے کہ جعفرزٹلی سے لیکر غالب اور داغ تک تمام ممتاز شعراء شہر آشوب لکھتے رہے۔بہادر شاہ ظفر کے درد بھرے نالے اسکے گواہ ہیں۔ایسے حالات میں جب کہ بادشاہ سے لے کر فقیر تک معاشی بدحالی میں گرفتار ہوں، روز روز انقلابات ہو رہے ہوں۔ایسے مقام کے باشندوں پر مایوسی اور ناکامی کا ہونا لازمی ہے۔اس کے برخلاف لکھنؤ میں تمام طرح کی سہولتیں فراہم کی جارہی تھیں، عیش و عشرت کا بازار گرم تھا۔اس لیے وہاں کے لوگوں میں سرمستی اور رنگین مزاجی کا ہونا لازمی تھا۔ان کا نظریہ زندگی کے متعلق مثبت تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہلی میں تباہی تھی تو لکھنؤ میں تعمیر و ترقی۔اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہلی کی شاعری آہ و غم کی شاعری ہے اور لکھنو کی شاعری واہ اور خوش مزاجی کی شاعری ہے۔

دبستان دہلی کی شاعری میں روحانی یا دلی جذبات کی کارفرمائی ہے اور لکھنؤ میں ظاہری حسن اور سراپا کا ذکر ہے۔دہلی کی شاعری کے لئے دلگداز ہونا ضروری ہے جبکہ لکھنؤ میں صرف طبیعت کا موضوع ہونا۔دلی کے شعراء نے حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ ان کی شاعری داخلی ہے اسی لئے ان کے یہاں روحانی اور تصوفانہ مضامین زیادہ نظر آتے ہیں۔اس کے برعکس لکھنؤ کی شاعری میں سراپانگاری اور معاملہ بندی تک شعراء محدود نظر آتے ہیں۔

لکھنؤ کو مشرقی تمدن کا آخری نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔دراصل لکھنویت دہلویت کے مقابلے شعر و شاعری کا ایک دوسرا رخ ہے۔دہلی کے وہ شعراء جو لکھنؤ آ گئے تھے وہاں کی خوشحالی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔1765ء میں شجاع الدولہ نے فیض آباد کو دارالحکومت بنایا تو اس کی تعمیر میں لاکھوں روپے صرف کیے۔آصف الدولہ نے 1775ء میں لکھنؤ کو اپنا دارالحکومت بنایا تو وہ تمام شان شوکت لکھنؤ میں منتقل ہوگئی۔آصف الدولہ سے لے کر واجد علی شاہ تک کے زمانے کا لکھنؤ ایک رنگین خواب تھا اس لیے یہاں کے لوگوں میں رنگین مزاجی اور رنگین خیالی رچ بس گئی تھی۔اس ماحول نے وہاں کے شعراء کے خیالات کو بھی آلودہ کردیا اور آہستہ آہستہ فحاشی ایک مستقل صنف بن گئی اور فحش گوئی اور نسوانیت سے ملکر ‘ریختی’ کی بنیاد پڑی۔ریختی میں عورتوں کے احساسات و جذبات کو ان ہی کی زبان اور محاورے میں پیش کیا جاتا ہے۔

دبستان لکھنؤ کے شعراء نے اپنی تمام تر توجہ ظاہری خوبصورتی پر صرف کی،اندرونی احساسات و جذبات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔تکلف تصنع کو لکھنوی تہذیب و معاشرت میں زیادہ فوقیت دی گئی۔ناسخ کو لکھنوی شعراء میں استاد مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اصلاح زبان کی تحریک شروع کی اس کے پیش نظر انہوں نے ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کو خارج کرکے فارسی اور عربی کے الفاظ کو جگہ دی۔دبستان دہلی کے شعراء نے ہندی اور دوسری زبانوں سے بھی استفادہ کیا لیکن لکھنوی شاعری نے اصلاح زبان کے نام پر عربی اور فارسی کو اولیت دی۔لکھنوی شعراء کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے لغت پر زیادہ توجہ دی اور اسی کے مطابق زبان کی ادائیگی پر زور دیا۔جبکہ دہلی کے شعراء نے مروجہ زبان پر زیادہ توجہ دی۔

دبستان لکھنو میں مرثیہ کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔انیس اور دبیر نے اس صنف کو ترقی دی اور مرثیے کو رونے اور رولانے سے نکال کر نئی شکل عطا کی۔مدرسہ لکھنوی مزاج نے موسیقی اور رقص کو خاص طور سے اپنایا جس کی وجہ سے ڈرامائی نظم کی بنیاد ڈالی گئی۔دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ میں خاص فرق زبان کا ہے۔دلی میں بعض الفاظ جو مونث بولے جاتے تھے لکھنؤ میں مزکر کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دبستان دلی کے شاعری داخلی شاعری ہے اور دبستان لکھنؤ کی شاعری میں محبوب کی ظاہری صورت یا سراپا کو بیان کیا گیا ہے۔اپنا اصلی اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں دبستانوں کی اپنی اپنی شناخت ہے جس کی وجہ سے دونوں میں امتیاز کیا جاتا ہے۔

رات کو چوری چھپے پہنچا جو میں
غل مچایا اس نے دوڑو چور ہے

کچھ اشارہ جوکیا ہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگا دن ہے ابھی رات کے وقت

Close