دلی میں اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز ولی کے دلی آنے کے بعد ہوتا ہے۔حالانکہ ولی سے قبل بھی دہلی میں ریختے میں شاعری ہو رہی تھی لیکن وہ شعراء ذائقہ بدلنے کے لئے اردو میں شاعری کررہے تھے اور اپنی شاعری کو ظاہر کرنا معیوب سمجھتے تھے کیونکہ اس دور میں فارسی شاعری کا بول بالا تھا اور فارسی میں شاعری کرنا فخر سمجھتے تھے۔

اردو شاعری فارسی شاعری کے زیر اثر پروان چڑھی اس لیے عشق ومحبت کے وہی تصورات اردو میں شامل ہوئے جو فارسی میں رائج تھے۔اردو میں صرف فارسی کی پیروی میں یہ تصورات شامل نہیں ہوئے بلکہ دہلی اور اس کے گردونواح میں مغلیہ سلطنت میں بھی وہی تصورات پائے جاتے تھے۔چونکہ اس وقت دہلی کو بہت ساری آفتوں کا سامنا کرنا پڑا اس لیے وہاں غم و الم کا ماحول بھی پیدا ہو گیا۔دہلی کی سماجی، سیاسی ابتری نے لوگوں کو تصوف کی طرف بھی مائل کیا۔ اسی لیے وہاں کی شاعری میں تصوفانہ مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں۔

دبستان دہلی کی شاعری کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔پہلا دور میں سراج الدین خان آرزو، ٹیک چند بہار اور جعفر زٹلی کے نام اہم ہیں۔دوسرے دور میں ولی کے بعد جن شعراء نے ریختہ میں شاعری کی ان میں خاتم، آبرو، مضمون، شاکر ناجی وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ایہام گوئی کو اس دور میں زیادہ فروغ ملا۔اور تیسرے دور میں مظہر، سودا، میر اور میر سوز وغیرہ کے نام اہم ہیں۔اس دور کے شعراء نے ایہام گوئی کو ختم کردیا اور آپ بیتی کو خاص رواج دیا۔چوتھا دور انشاء، مصحفی، رنگین اور جرأت کا ہے اور پانچواں دور غالب، مومن، ذوق اور ظفر کا ہے۔اس دور میں زبان نے ایک مستقل شکل اختیار کرلی۔

دبستان دہلی کے شعراء سے مراد صرف وہی شعراء نہیں ہیں جنہوں نے صرف دہلی میں شاعری کی بلکہ وہ بھی ہیں جنہوں نے دوسرے شہروں میں جا کر دبستان دہلی کے تصورات کو عام کیا۔دراصل دہلویت ایک نقطۂ نظر، ایک خاص شعری مزاج کا نام ہے۔دہلی کی معاشی اور سیاسی حالت بہت خراب تھی اسی لئے دہلوی شاعری فاقے میں پروان چڑھی۔درویشوں اور فقیروں کی صحبت میں تصوف نے بھی اپنی خاص جگہ بنائی۔دبستان دہلی کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ دل میں درد ہو، جذبات میں گہرائی ہو اور خیالات میں بلندی ہو۔زبان صاف، سلیس اور شگفتہ ہو۔ولی سے لیکر میر اور غالب کے زمانے کا درویشی و شاعری ساتھ ساتھ چلتی رہی۔

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کرے ہم کو عبث بد نام کیا

غافل تو کدھر بہکے ہے ٹک دل کی خبر لے
شیشہ جو بغل میں ہے اسی میں تو پری ہے

آئی حیات لائی قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

مجموعی طور پر دبستان دہلی میں ہر طرح کی شاعری ہو رہی تھی۔حسن و عشق کے ساتھ ساتھ تصوف دہلی کے شعراء کا اہم موضوع رہا ہے۔دہلی کے شعراء نے واردات قلبی اور تصوف کے مضامین پر زیادہ توجہ دی۔انہوں نے حقیقت کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا اسی لئے ان کی شاعری داخلی اور کلبی ہے۔دبستان دہلی کے شعراء کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ عشق و عاشقی، ہجرووصال، شکوہ شکایت کے مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے کہ ایک نیا لطف پیدا ہو گیا۔یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے دبستان دہلی کی شاعری تمام دبستانوں میں اپنی انفرادی حیثیت رکھتی ہے۔

Close