علی گڑھ تحریک کے بانی سرسیداحمدخان تھے۔ وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ہندوستانی لوگوں اور خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبے کی خامیوں اور خوبیوں کا انہوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا۔ان کی ضرورتوں پر غور کیا اور مصلحانہ کوششوں سے ان کی یہ رہنمایانہ کوششیں کسی میدان تک محدود نہ رہیں بلکہ انہوں نے مذہب،ادب، سیاست، تعلیم، معاشرت اور سماج غرض یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کے جملہ مسائل پر توجہ کی۔

یوں تو 1857ء ہی مغلیہ دور حکومت کے خاتمہ اور انگریزوں کی حکمرانی کے آغاز کے درمیان ایک خط امتیاز ہے۔ مگر غدر 1857ء سے ہی اس کے آثار بہت نمایاں ہو چکے تھے۔ سرسید احمد خان نے ان باتوں کو بہت پہلے محسوس کرلیا تھا۔غدر کے بعد سرسید کے سامنے ہندوستان کے مستقبل کی واضح تصویر آچکی تھی۔

انقلاب نے سرسید کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور انہیں قوم کی تباہی و بربادی کا شدید احساس ہوگیا۔انہوں نے قوم کو بیدار کرنے کے لیے انگریزی زبان سیکھنے اور مغربی علوم کے حصول پر زور دیا۔چنانچہ 1862ء میں سرسیدنے غازی پورہ میں سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی۔جس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان کی اعلی، علمی، تہذیبی اور سائنسی کتابوں کا ترجمہ کیا جائے اور ان لوگوں کو اس سرمایہ سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے جو براہ راست انگریزی زبانوں کی کتابوں کا مطالعہ نہیں کرسکتے تھے۔سائنٹفک سوسائٹی کا قیام ہی صحیح معنوں میں علی گڑھ تحریک کے علمی اور ادبی کارناموں کا نقطۂ آغاز ہے۔اس لئے کہ اس سوسائٹی کے جو مقاصد اس وقت پیش نظر رکھے گئے تھے بنیادی طور پر وہی مقاصد سرسید اور ان کے رفقاء کار کے علمی و ادبی کارناموں اور علمی جدوجہد میں عرصہ دراز تک کارفرما رہے۔

سرسید نے 1869ء میں انگلستان کا سفر کیا۔لندن میں انہوں نے انگریزی نظام تعلیم، طرز معاشرت، طرز زندگی، اخلاقی اور سماجی طریقہ کار کا نظر غائر سے مطالعہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ہندوستان میں واپس آکر آکسفورڈ اور کیمبرج کے طرز پر تعلیمی ادارہ کھولا جائے گا۔1871ء میں ہندوستان واپس آکر انھوں نے مسلمانوں میں تعلیم کے عام کرنے اور نئی نسل کی ذہنی تربیت کے لئے 24 مئی 1875ء کو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد ڈالی۔اس کے بعد 8 جنوری 1877ء میں مدرسۃالعلوم کو ایم۔اے۔ او کالج کا درجہ دیا گیا۔یہ ادارہ نہایت ہی سرعت کے ساتھ ترقی کرنے لگا۔اس کالج نے انگلستان کے بہترین اور قابل ترین اساتذہ کی خدمات حاصل کیں۔

تعلیمی، مذہبی، معاشرتی، سماجی، سیاسی اور ادبی ترقی علی گڑھ تحریک کے اہم مقاصد تھے جن کے حصول کے لیے سرسید نے ہر ممکن کوشش کی۔اپنی زندگی میں ہی سرسید احمد خان نے اس کالج کو یونیورسٹی میں بدلنے کی کوشش شروع کی لیکن بیس لاکھ روپیہ فنڈ کے بغیر حکومت یونیورسٹی قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔چناچہ سر سید کی وفات کے بعد نواب محسن الملک نے علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی کے درجے تک پہنچانے کی کوشش کی مگر ان کی زندگی میں صرف آٹھ لاکھ روپے جمع ہوئے۔پھر ان کی وفات کے بعد آغا خان نے بڑی جانفشانی سے کام کرکے 20 لاکھ روپے اکٹھے کئے اور 1920ء میں حکومت سے منظوری حاصل کرکے اس کالج کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ دیا۔

علی گڑھ نے ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوستانی قوم کو بیدار کرنے اور تعلیم یافتہ بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔علی گڑھ تحریک کو فروغ دینے کے لیے سر سید کے رفقاء کار حالی، شبلی، نذیراحمد، آزاد،محسن الملک، مہدی مولوی ذکاءاللہ، سجاد قادری، محمد اقبال، اور آغا خان نے بہت بڑا کام کیا ہے۔علی گڑھ تحریک دراصل سرسید کے اس خواب کا نام ہے جس کی تعبیر ہمیں آج ہندوستانیوں کی زندگی میں عام اور مسلمانوں کی زندگی کے لئے مختلف شعبوں میں خاص دکھائی دیتی ہیں۔ابتداء میں یہ تحریک سرسید نے انفرادی سطح پر شروع کی تھی لیکن بعد میں رفقاء کے ساتھ ملتے گئے اور ایک بہت بڑا قافلہ بن گیا۔

علی گڑھ تحریک نے تعلیمی، مذہبی، معاشرتی، ادبی، سماجی، سیاسی اور تمدنی بیداری اور ترقی کے لیے نہایت اہم رول ادا کیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج بھی وہی فرائض انجام دے رہی ہے۔دنیا کے کونے کونے سے طلباء تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہاں آتے ہیں جس کا سہرا سرسید احمد خان کے سر ہے۔

https://www.instagram.com/p/Bnfx-fYFjtO/?hl=en&taken-by=urdu_notes
Close